Share this link via
Personality Websites!
کرنے کا ذہن دینا چاہیے کیونکہ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو عورت کی عزّت وعِصْمَت کا محافظ ہے ، جبھی تو اسے گھرکی چاردیواری میں رہتے ہوئے ، امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔چنانچہ
پارہ 22سُوْرَۂ اَحْزَاب کی آیت نمبر 33 میں ارشاد ہوتاہے :
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى ( پ۲۲ ، الاحزاب:۳۳ )
تَرجَمَۂ کنزُ العرفان:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔
پارہ 18 ، سُوْرَۂ نُوْرآیت نمبر31میںاِرشاد ہوتاہے:
وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ ( پ۱۸ ، النور:۳۱ )
تَرْجَمَۂ کنز العرفان :اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا ( بدن کاحصہ ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! معاشرے کے بگاڑ اور سُدھار میں عورت کاایک بہت بڑا کردار ہوتا ہے ، مثلاًاگر عورت نیک ، پرہیزگار اور حیادار ہوگی تو یہی خوبیاں اس کی نسلوں میں بھی منتقل ہوں گی لہٰذا عورتوں کو چاہیے کہ وہ ناجائز فیشن اپنانے اور بے حیائی کے مقامات کی زینت بننے کے بجائےاُمَّہاتُ الْمُؤمنین اور آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی شہزادیوں بالخصوص شہزادیِ کونین ، خاتونِ جنت رَضِیَ اللہ عَنْہنَّ کی پاکیزہ سیرت و کردار سے سبق حاصل کرتے ہوئے پردے میں رہنے کو اپنی عادت میں شامل کریں ، کیونکہ یہی وہ مقدَّس ہستیاں ہیں کہ صحبتِ مصطفٰے کی بدولت جن میں حیا کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami