Share this link via
Personality Websites!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ کریم نے مسلمانوں کو شیطان کی پیروی سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ
پارہ2 سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ کی آیت نمبر169 میں ارشادہوتا ہے:
وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸) اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۱۶۹) ( پ۲ ، البقرۃ:۱۶۹-۱۶۸ )
ترجَمۂ کنز العرفان:اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔وہ تمہیں صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ ( حکم دے گا ) کہ تم اللہ کے بارے میں وہ کچھ کہو جو خود تمہیں معلوم نہیں۔
ان آیات کے تحت تفسیر صراط الجنان میں لکھاہے: شیطان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو برائی کی طرف بلائے ، کفرو شرک کی طرف ، اللہ کریم کے متعلق غلط عقائد منسوب کرنے کی طرف یا اس کے حلال کردہ کو حرام کہنے اور اس کے حرام کردہ کو حلال کہنے کی طرف ، بُرے کاموں مثلاً جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، وعدہ خلافی ، بُہتان ، لڑائی فساد ، حسد ، بغض و کینہ وغیرہ چیزوں کی طرف بُلائے۔ یونہی بے حیائی کے کام گانے ، باجے ، فلمیں ، ڈرامے ، ناچ ، بدنگاہی ، فحش گفتگو ، گندی باتیں ، ناجائز تعلقات ، بُری نیت سے دیکھنا ، چھُونا ، بدکاری وغیرہ گناہوں کی طرف بُلانا شیطان کا کام ہے۔افسوس کی بات ہے کہ آج کل ان بُرائیوں میں سے بہت سی چیزوں کی طرف بلانے میں گھروالوں اور دوست احباب ، گھر ، بازار ، معاشرہ ، افسر وغیرہ کا تعاون یا ترغیب ( شامل ) ہوتی ہے۔ ( صراط الجنان ، ۱ / ۲۷۰ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! ہمیں اپنی اور اپنے گھروالوں ، عزیزوں ، رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے اور انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق شرعی پردہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami