Share this link via
Personality Websites!
نے اس سے فرمایا :ہمیں رات کو ہی اطلاع کیوں نہیں دی ، ہم بھی جنازے میں شریک ہو جاتے ؟اس نے عرض کی ، امیرُ المومنین ! آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے مُناسب معلوم نہ ہوا۔آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔چنانچہ وہاں پہنچ کر آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) ( پ۲۷ ، الرحمن۴۶ )
ترجَمۂ کنزالعرفان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔
تو قبر میں سے اس نوجوان نے بلندآواز کے ساتھ پُکار کر کہا: اےامیرالمومنین ! بےشک میرے رَبّ کریم نے مجھے دو جنّتیں عطا فرمائی ہیں۔ ( شرح الصدور ، ص۲۱۳ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سُنا کہ اللہ والوں کاعالَمِ جوانی میں بھی عبادات بجالانے اور بے حَیائی سے بچنے کا کس قدر پختہ ذِہْن بنا ہوا تھا کہ جوانی میں بھی اکثراوقا ت عبادتِ الٰہی اور والدین کی خدمت میں بسر ہوتے تھے ، یہ حضرات شیطانی چالوں سے ہردَم ہوشیار رہتے ، اسی وجہ سے گُناہ پر قُدرت کے باوُجودبھی اپنی نگاہوں کی حفاظت کر تے اور اپنا پاک دامن بے حیائی والے کاموں سے داغدار ہونے سےبچایا کرتےتھے۔ یاد رکھئے ! شیطان مسلمان کا ازلی دشمن ہے اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو نیک لوگوں کے راستے سے ہٹا کر بُرائیوں کی راہ پر لگا دے تاکہ معاشرے سے حیا کا وجود مٹ جائے اوربے شرمی وبے حیائی زیادہ سے زیادہ عام ہوتی چلی جائے۔ لہٰذا عقلمند کو چاہئے کہ وہ شرم و حیا کے ان علمبرداروں یعنی اسلافِ کرام رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور شیطانِ لعین کے خلاف جنگ جاری رکھے اور ہرگز ہرگز شیطان کے بہکاوے میں نہ آئے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami