Share this link via
Personality Websites!
بے شک مجھے دو ( 2 ) جنّتیں عطا کی گئیں
امیرِ المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہ کے زمانۂ مبارک میں ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار وعبادت گزار تھا ۔حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہ بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔ وہ نوجوان نمازِ عشا مسجد میں ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبصورت عورت اسے اپنی طرف بُلاتی تھی ، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیےبغیر نگاہیں جھکائے گزرجاتا۔آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے وسوسے اور اس عورت کی دعوت پر بُرائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا ، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے اللہ پاک کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آ گیا:
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱) ( پ۹ ، الاعراف ۲۰۱ )
ترجَمۂ کنزالعرفان:بیشک پرہیزگاروں کوجب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آتا ہے تو وہ ( حکمِ خدا ) یاد کرتے ہیں پھر اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
اس آیتِ مُباركہ کے یاد آتے ہی اس کے دل میں اللہ پاک کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گِر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا اور لوگوں کی مدد سے اسے اُٹھوا کر گھر لے آیا۔ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ پوچھا ، نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے جب اس آیتِ پاک کا ذکر کیا ، تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللہ پاک کا شدید خوف غالب ہوا ، اس نے ایک زور دارچیخ ماری اوراس کا دَم نکل گیا۔راتوں رات ہی اس کے غسل اور کفن دَفْن کا اِنتظام کر دیاگیا ۔صبح جب یہ واقعہ امیرِ المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عَنْہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ اس کے باپ کے پاس تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ رَضِیَ اللہ عَنْہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami