Share this link via
Personality Websites!
مشہورمُفَسِّرِ قرآن حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ بیان کردہ حدیث کی شرح میں ارشاد فرماتے ہیں: کنواری لڑکی کی جب شادی ہونے والی ہوتی ہے تو اسے گھر کے ایک گوشے میں بٹھادیا جاتا ہے۔ اسے اُردو میں مایوں بٹھانا کہا جاتا ہے ، اس زمانہ میں لڑکی بہت ہی شرمیلی ہوتی ہے ، گھر والوں سے بھی شرم کرتی ہے ، کسی سے کُھل کر بات نہیں کرتی ، حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی شرم اس سے بھی زیادہ تھی ، حیا انسان کا خاص جوہر ہے جتنا ایمان قوی ( مضبوط ہوگا ) اتنی حیا ( بھی ) زیادہ ہوگی۔ ( مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۷۳ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! عُموماًزندگی میں انسان کوتین حالتوں سے گزرنا پڑتا ہے: ( 1 ) بچپن ( 2 ) جوانی اور ( 3 ) بڑھاپا۔بچپن میں انسانی طبیعت کھیل کُود کی جانب مائل ہوتی ہے ، بڑھاپے میں اعضاءکمزورپڑ جاتے ہیں ، بیماریاں گھیرلیتی ہیں ، گناہ کی جانب رُجحان کم ہوجاتا ہے اور عبادت کی طرف رغبت پیداہوجاتی ہے ، جبکہ جوانی زندگی کا وہ اَہَم دَورہے کہ جس میں انسانی طبیعت پرنفسانی خواہشات کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے ، چونکہ زندگی کے اس حصّے میں اعضائے جسم سلامت و تندرست ہوتے ہیں لہٰذا نوجوان ” جوانی دیوانی ہوتی ہے “ کے مصداق بن کر اپنے مقصدِ حیات کو بھول جاتے ہیں اور زندگی کے ان قیمتی لمحات کو رضائے الٰہی والے کاموں میں گزارنے کے بجائےبے حیائی کے کاموں میں برباد کردیتے ہیں۔لہٰذا نوجوان نسل کو بے حیائی کی تباہی سے بچانے کے لئے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ کی مثالی زندگی ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے ، ان نیک ہستیوں کو نفس و شیطان لاکھ برائی پراُبھارتا مگریہ نفوسِ قُدسیہ بھری جوانی میں بھی حیا کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتے اور اس کے صلے میں اللہ پاک کی بارگاہ سے انعام و اکرام کے مُسْتَحِق قرار پاتے ۔ آئیے ! ایسے ہی ایک باحیا نوجوان کی ایمان افروز حکایت سنتے ہیں ، چنانچہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami