Share this link via
Personality Websites!
دے۔ “ جائز نہيں کہ اس ميں اُن احاديثِ مبارَکہ کی تکذيب ( یعنی جُھٹلانا ) ہوتی ہے جن ميں بعض مسلمان کا دوزخ ميں جانا وارِد ہوا ( ص۱۰۶ ) البتّہ يوں دُعا کرنا ” ساری اُمّتِ محمد کی مغفرت ( یعنی بخشش ) ہو يا سارے مسلمانوں کی مغفرت ہو “ جائز ہے ( ص۱۰۲ ) بہتر یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو دُعا میں شامل کر لے اِس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اگر خود اُس نیک بات کا حق دار نہ بھی ہوا تو اچھے مسلمانوں کے طُفیل پا لے گا۔*حضرت امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:مضبوط عقیدے کے ساتھ دُعا مانگے اور قَبولیَّت کا یقین رکھے۔ ( احیاء العلوم ، ۴ / ۷۷۰ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمّد
*بارش کی زیادتی کے وقْت کی دُعا
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابق ” بارش کی زیادتی کے وقْت کی دعا “ یاد کروائی جائےگی۔وہ دعایہ ہے:
اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اَللّٰہُمَّ عَلَی الْاٰکَامِ وَ الظِّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ
( بخاری ، 1 / 348 ، حدیث:1014 )
ترجمہ: اے اللّٰہ پا ک ! ہمارے ارد گرد برسا اور ہم پر نہ بسا ، اے اللّٰہ پا ک ! ٹیلوں پر اور پہاڑیوں پر اور وادیوں پر اور درخت اگنے کے مقامات پر برسا ۔ ( خزینۂ رحمت ، ص۱۴۰ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
*اجتماعی جائزے کا طریقہ ( 72نیک اعمال )
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ : ( آخرت کے معاملے میں ) گھڑی بھر غور و فکر کرنا 60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ( جامع صغیرللسیوطی ، ص۳۶۵ ، حدیث:۵۸۹۷ )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami