Share this link via
Personality Websites!
برکت سے کئی افراد اپنی نمازیں درست کر نے کے ساتھ امام بن کر رخصت ہوتے اور معاشرے میں عزت کا مقام پاتے ہیں۔ لہٰذا جسےبھی موقع ملے اسے ضرور امامت کورس کے ذریعے علمِ دین حاصل کرنا چاہیے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمّد
بُزرگانِ دین کی سیرت کا مطالعہ کیجئے
پیارے پیارے اِسلامی بھائیو ! شرم و حَیا پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بُزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے واقعات اور اُن کی سیرت کا مطالعہ کیاجائے ، بعض اوقات اللہ والوں کی سیرت و کردار سے متاثر ہوکربے حیائی اورگُناہ کےکاموں سے نفرت ، نیکیوں کی طرف رغبت اور اُن جیسا بننے کی چاہت پیدا ہوتی ہے۔صحابیِ رسول حضرتِ سلمان فارسی رَضِیَ اللہ عَنْہ کی شرم و حیا سے متعلق آپ کافرمان سنئے ، چنانچہ فرماتے ہیں: میں مروں پھر زندہ ہوں ، پھر مروں پھر زندہ ہوں ، پھر مروں پھر زندہ ہوں تب بھی میرے نزدیک یہ اس سے بہتر ہے کہ میں کسی کی شرمگاہ کو دیکھوں یا کوئی میری شرم گاہ کو دیکھے۔ ( تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن ، ص۲۵۸ملخصاً )
پیارے پیارے اِسلامی بھائیو ! حیا کی نَشوونُما میں ماحول اور تربیت کابھی بَہُت عمل دَخْل ہوتاہے۔حیادار ماحول ملنے کی صورت میں حیا کو خوب نِکھار ملتا ہے جبکہ بے حیا لوگوں کی صحبت قلب و نگاہ کی پاکیزگی سَلْب کر کے بے شرم کر دیتی ہے اور بندہ بے شمار غیر اَخلاقی اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ہرمسلمان کوچاہئے کہ اللہ پاککے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرے اور کسی کی صحبت اختیار کرنے سے پہلےیہ غور کر لے کہ وہ کس کی صحبت اختیار کر رہا ہے ، کیونکہ دین دار دوست
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami