Share this link via
Personality Websites!
ہیں ، ان میں سے بعض اللہ کریم کےوہ نیک بندے ہیں جو اس کاخوف رکھتے ہوئے بے حیائی اور گناہ کے کاموں سےدُور رہتے ہیں ، بعض لوگوں کے سامنے بدنامی کے خوف اور شرم کی وجہ سے بُرے کاموں سے بازرہتے ہیں مگر بعض شرم وحیا سے عاری افراد ایسے بھی ہیں جنہیں بدنامی کی پروانہیں ہوتی ، ایسےلوگ بے دھڑک ہر گناہ کر گزرتے ، اَخلاقیات کی حُدُود توڑ کر بداَخلاقی کے میدان میں اُترآتےاورانسانيت سے گِرے ہوئے کام کرنےمیں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے ، دن رات ان کے ہاتھ پاؤں ، زبان اور آنکھ اوردل ودماغ گناہوں میں ملوث رہتےہیں۔یادرکھئے ! ہمارے یہ سلامت اعضاء اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہیں ، ہمیں شکرِ الٰہی ادا کرتے ہوئے ان اعضاء کو گناہوں سے بچاکر اللہ کریم سے حیاکاحق ادا کرنا چاہیے۔
اللہ کریم سے حیا کرنے کا معنیٰ
حضرت عبدُ اللہ بن مَسعُود رَضِیَ اللہ عَنْہ سے مَروی ہے:حُضُورِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صَحابہ کِرام رَضِیَ اللہ عَنْہم سےفرمایا:اللہ کریم سے حیاکرو جیسا حیا کرنے کا حق ہے۔حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عَنْہ فرماتے ہیں :ہم نے عرض کی:ہم اللہ کریم سے حیا کرتے ہیں اور سب خوبیاں اللہ کریم کیلئے ہیں۔ارشاد فرمایا:یہ نہیں ، بلکہ اللہ کریم سے کما حَقُّہ ، حیا کرنے کے معنیٰ یہ ہيں کہ سر اور سر میں جتنے اَعضاء ہیں ان کی اور پیٹ کی اور پیٹ جن جن اَعضاء کو گھیرے ہے اُن کی حفاظت کرے اور موت اور مرنے کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرے اور آخِرت کو چاہنے والا دنیا کی زَیب و زِینت چھوڑ دیتا ہے تو جس نے ایسا کیا اُس نے اللہ کریم سے شرمانے کا حق ادا کر دیا۔ ( مسند امام احمد ، ۲ / ۳۳ ، حديث:۳۶۷۱ )
اوراگرہم نےساری زندگی ہاتھ پاؤں کوگناہوں میں مشغول رکھا ، زبان کوفحش باتوں کا عادی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami