Share this link via
Personality Websites!
فحش گواوربےحیا نہیں ہوتا۔ ( [1] ) ہمارے بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی شرم و حیا کا عالم یہ تھا کہ فحش اور بُری باتوں سے نہ صرف خود بچتے تھے بلکہ اپنے متعلقین کوفحش باتیں سننے سے بھی منع فرماتے تھے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! بعض ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں کہ جو خود تو فحش گوئی سے بچتے ہیں لیکن اگر کسی کو فحش گوئی اور بدکلامی کرتا دیکھیں تو اس کی فحش گوئی اور بدکلامی سے مَعَاذَ اللہ بہت محظوظ اور لُطف اندوز ہوتے ہیں اوران کو بد کلامی سے روکنے کے بجاۓ ان کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہوۓ اپنی آخرت کی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے میں نبیِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ كافرمانِ عبرت نشان ہے:چار ( 4 ) طرح کے جہنمی جو کھولتے پانی اور آگ کے درمیان بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور ( ہلاکت ) مانگتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک وہ شخص کہ اس کے مُنہ سے پِیپ اور خون بہتے ہوں گے۔ جہنَّمی کہیں گے: ” اس بد بخت کو کیا ہوا ہماری تکلیف میں اضافہ کئے دیتا ہے؟ “ کہا جائے گا: ” یہ بدبخت خبیث اور بُری بات کی طرف مُتَوَجِّہ ہو کر اس سے لذّت اٹھاتا تھا جیسا کہ جِماع کی باتوں سے۔ “ ( اِتحافُ السّادَة ، ۹ / 187 )
حضرت شُعیب بن ابی سعید رَضِیَ اللہ عَنْہ فرماتے ہیں: ” جو بے حیائی کی باتوں سے لذّت اُٹھائے بروز ِقِیامت اس کے منہ سے پِیپ اور خون جاری ہوں گے۔ “ ( اَیضاً ص۸۸۱ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! شہوت کی تسکین کی خاطر تیری شادی ، میری شادی کہتے ہوئے بے شَرمی کی باتیں کرنے والے ڈِراموں کے شائقین ، فُحش فلمیں دیکھنے والے ، سینما گھروں میں جانے والے ، فلمی گانے گُنگُنانے والے بیان کردہ حدیثِ پاک سے درسِ عبرت حاصل کریں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami