Share this link via
Personality Websites!
نیک عمل نمبر 22 یہ ہے کیا آج آپ نے اپنے گھر کے جھروکوں ( یعنی باہر دیکھنے کے لئے رکھی گئی کھڑکیوں ) سے ( بلا ضرورت ) باہر نیز کسی اور کے دروازوں وغیرہ سے اُن کے گھروں کے اندر جھانکنے سے بچنے کی کوشش کی؟
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! اس پُرفتن دَورمىں جہاں ہماری اکثریت بے شرمی و بےحیائی والے دیگر کاموں میں مشغول نظرآتی ہے ، وہیں فُضول گوئی اورفحش کلامی بھی ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہوچکی ہے کہ ہماری کوئى بىٹھک اس گناہ سےمحفوظ ہو بہت مشکل ہے ، جہاں چنددوست جمع ہوئے ، ہنسی مذاق کا سلسلہ شروع ہوا توکئی کئی گھنٹے تک انجامِ آخرت سے بے خوف ہوکر بیہودہ اورفحش گفتگو میں مگن رہتے ہیں ، انہیں اس بات کی بالکل فکر نہیں ہوتی کہ ہماری یہ گفتگو اللہ کریم کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے ، اس نے تو ہمیں ایسی باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ
پارہ 14سُوْرَۃُ النَّحل کی آیت نمبر 90 میں ارشاد ہوتاہے:
وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ ( پ۱۴ ، النحل:۹۰ )
تَرجَمَۂ کنزُالعرفان:اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔
ہمیں بھی چاہیےکہاللہ کریم کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی رضا و خوشنودی والے کاموں میں زندگی گزاریں اور اس کی نافرمانی والے کاموں سے بچتےہوئے کامل مومن بننے کی کوشش کریں ، کیونکہ فرمانِ مصطفے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مطابق مومن عیب نکالنے والا ، لعنت کرنے والا ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami