Share this link via
Personality Websites!
بدنگاہیوں سے نہ بچ پائیں اورکہیں آخرت میں مجھے بھی اس کا حساب نہ دینا پڑجائے کہ تُو جب حالات سے واقف تھا کہ ہر ایک آنکھوں کی حفاظت نہیں کر پائے گاتو اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے لوگوں کو مطار ( ائیر پورٹ ) پر کیوں جمع کرتا رہا؟آہ ! حساب کے سامنے کی تاب نہیں ، میں نے سارے گناہوں سے بار بار توبہ کی ہے ، آپ کوگواہ رکھ کر بھی توبہ کرتا ہوں۔استقامت کی دعا فرمادیجئے۔ ( لیکن ) سیکیورٹی گارڈز ) کی آمدہماری مجبوری ہے ، زہے نصیب ! صرف گاڑیوں کے ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈز تشریف لائیں اور وہ بھی کارپارکنگ کی جگہ تشریف رکھیں۔ ( انفرادی کوشش ، ص۱۱۷ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نےسُنا کہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ آنکھوں کی حفاظت کے معاملے میں کس قدر حساس ( Sensitive ) طبیعت کے مالک ہیں کہ اپنی آمد کے استقبال کے لئے آنے کی خواہش رکھنے والے عاشقانِ رسول کو ائیر پورٹ کے حیا سوز ماحول کے پیشِ نظر اپنی روانگی سے قبل ہی ائیر پورٹ نہ آنے کی ترغیب ارشاد فرمائی بلکہ نہ آنے کی وجہ بھی بتادی کہ اس مَقام پر بدنگاہی سے بچنا انتہائی دُشوار ہوتاہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بھی امیرِ اہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور اسلافِ کرام رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو شرم و حیا کا پیکر بنائیں ، گھر اور باہراپنی نگاہوں کو گناہوں بھرے ماحول سے بچائیں اور اس عمل پر استقامت پانے کے لیے 72 نیک اعمال نامی رسالے سے روزانہ اپنا جائزہ لینے کی عادت بنائیں۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 72نیک اعمال نامی رسالے میں کچھ نیک اعمال ایسے ہیں کہ اگر ہم ان پر پابندی سے عمل کرنا شروع کردیں تو ہمیں آنکھوں کو گناہوں سے بچانے میں کامیابی نصیب ہوجائے گی۔ آئیے ! ان نیک اعمال میں سے ایک نیک عمل نمبر 22 کے بارے میں سنئے اور اس پرعمل کی نِیَّت بھی کیجیے ، چنانچہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami