Share this link via
Personality Websites!
ایصالِ ثواب کے اجتماعات کرنے والے تو بہت ہیں ، مگران کی سیرتِ مبارکہ پرعمل کی کوشش کرنے والے بہت ہی کم ہیں ، نگاہوں کی حفاظت کرنے والے بہت کم ہیں ، شرم و حیا کے پیکر بہت کم ہیں ، اللہ پاک دیکھ رہا ہے یہ توجہ رکھنے والے بہت کم ہیں ، اللہ پاک کے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ مُلاحظہ فرما رہے ہیں یہ توجہ رکھنے والے بہت کم ہیں ، آخرت کا خوف رکھنے والےبہت کم ہیں ، اُخروی عذابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے گناہوں سے بچنے والے بہت کم ہیں ، نگاہوں کی حفاظت کا ذہن رکھنے والے تو بہت کم کم اور کم ہیں۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دورِ حاضر میں اَسلاف رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سیرت پر نہ صرف خودعمل کرتے ہیں بلکہ اپنے متعلقین و مریدین ومحبین کو بھی ان نیک ہستیوں کی پیروی کی ترغیب دلاتے ہوئےخوفِ خدا ، شرم وحیااور نگاہوں کی حفاظت کا ذہن دیتے رہتے ہیں ، چنانچہ
ایک مرتبہ عرب امارات سے کراچی تشریف لانے سے قبل آپ دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نگاہ کی حفاظت سے متعلق انفرادی کوشش پر مشتمل ایک ای میل E.Mail اپنے بڑے شہزادے اور جانشین حضرت مولاناالحاج ابو اُسید عبید رضا عطاری مَدَنی مَدَّ ظِلُّہٗ الْعَالِی کو بھیجی ، جس کا کچھ حصہ پیشِ خدمت ہے:
اِنْ شَآءَ اللہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب P.I.A کے ذریعے رات تقریباً 12 بجے روانگی ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ رات کے تین ( 3 ) بجے کراچی کے ائیر پورٹ ( Air port ) پر اُتر جائیں گے۔ چونکہ ائیرپورٹ ( Air port ) پر بے پردہ عورتوں سے بھر اگندا سا ماحول ہوتا ہے ، اس لئے ذہن یہ بن رہا ہے کہ میں کسی کو بھی ائیرپورٹ ( Air port ) آنے کا نہ کہوں کہ کہیں میرے کہنے کے سبب وہ آئیں اور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami