Share this link via
Personality Websites!
کے نام پر ، کبھی بچے کی سالگرہ کے نام پر اہتمام کے ساتھ گانے باجے سُنے جاتے ہیں ، گویا بے شرمی و بے حیائی عُروج پر ہوتی ہے ، معاذَاللہ بے پردہ عورتیں بن سنورکردعوتِ نظارہ پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ اب تو سفر چاہے بس میں ہویاٹرین میں ، کوچ میں ہو یا ہوائی جہاز میں ، ہرجگہ بے شرمی و بے حیائی کے مناظرسے اپنے آپ کو بچانا اِنتہائی دُشوار ہو گیا ہے۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ، زبان ، آنکھ ، کان اورجسم کے دیگراعضاء کی گناہوں سے حفاظت نصیب فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اپنے زمانے کے مشہور ولی حضرت یونس بن یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ جوان تھے ، اکثروقت مسجد میں ہی گزارتےتھے ایک مرتبہ مسجد سے گھر آتے ہوئے اچانک ایک عورت پر نظر پڑی اور دل اس طرف مائل ہوا لیکن پھرفوراًہی شرمندہ ہو کر تائب ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں یوں دعا کی: ’’ اے میرے پاک پروردگار ! آنکھیں اگرچہ بہت بڑی نعمت ہیں ، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں یہ میری ہلاکت کا باعث نہ بن جائیں اور میں ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں ، میرے مالک ! تُو میری بینائی سلب کرلےچنانچہ ان کی دعاقبول ہوئی اور وہ نابینا ہو گئے۔ ( عیون الحکایات ، الحکایة السابعة والاربعون بعد المائة ، ۱۶۵ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نےسنا کہ ہمارے اسلاف رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کیسی شرم وحیاوالے تھے کہ اگر کسی عورت پراچانک نظر پڑجاتی تو فوراً نظریں جھکالیتےاوراللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتے ، مگرافسوس ! اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو ماننے والے ، ان کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami