Share this link via
Personality Websites!
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ کی نگاہیں ہمیشہ اس طرح جھکی رہتیں کہ پاس سے گزرنے والوں کی بھی خبر نہ ہوتی۔اس وَقْت گھروں کی دیواریں اتنی بلند نہ ہوتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ گھروں کے قریب سے گزر رہے تھے کہ کسی عورت نے دوسری عورتوں سے کہا:جلدی سے گھروں کے اندر چلی جاؤ ، ایک نوجوان آرہا ہے۔یہ سُن کر دوسری عورتوں نے کہا: ارے ! یہ تو حضرتِ اَسْوَدبن کُلْثُوْم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ ہیں ، ان کی نظریں تو زمین سے اُٹھتی ہی نہیں پھر یہ کسی غیر عورت پرنظر کیونکرڈالیں گے۔ ( عیون الحکایات ، الحکایةالسابعة والسبعون بعدالثلاثمائة ، ص۳۲۹ )
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
آئندہ کبھی بھی اُوپر نہ دیکھوں گا
حضرت مَجمَع رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ نے ایک مرتبہ اوپر کی طرف دیکھا تو ایک چھت پر موجود کسی عورت پر نظر پڑ گئی۔ فوراً نِگاہ جُھکا لی اوراِس قَدَر شرمندہ ہوئے کہ عہد کر لیا آئندہ کبھی بھی اُوپر نہ دیکھوں گا۔ ( احیاء العلوم ، ۵ / ۱۴۱ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! شرم و حیا بہت پیارا وصف ہے ، مگربدقسمتی کے ساتھ آج کے دور میں گناہوں کے نِت نئے اندازنےگویا غیرت کا جنازہ نکال دِیا ہے۔شرم و حیا کی چادرتار تار ہوتی چلی جا رہی ہے ، موبائل ، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا ( Social Media ) کے ذریعے نہ جانے کس کس غیرشرعی اندازسے ایک دُوسرے سے روابط قائم کرکےآخرت کی بربادی کا سامان اکٹھا کیا جارہا ہے۔جی ہاں ! اب نوبت صرف ایک دُوسرے سے بات کرنے تک نہیں بلکہ ایک دُوسرے کوتصویریں بھیجی جاتی ہیں ، اب تو معاذاللہ کئی موقعوں مثلاً عیدِ سعید پرتو کبھی جشنِ آزادی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami