Share this link via
Personality Websites!
ہے تو شیطان اسے جھانک جھانک کر دیکھتا ہے۔ ( ترمذی ، ۲ / ۳۹۲ ، حدیث:۱۱۷۶ )
2. زِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُیعنی آنکھوں کا زنا بدنگاہی ہے۔ ( ابو داود ، کتاب النکاح ، باب فی ما یؤمر به من غض البصر ، ۲ / ۳۵۸ ، حدیث:۲۱۵۲ )
3. نظر ، ابلىس کے تِىروں مىں سے زہر مىں بُجھا ہوا اىک تِىر ہے ، پس جوشخص مىرے خوف سے اسے چھوڑدے تو مىں اسے اىسا اىمان عطا کروں گا جس کى مٹھاس وہ اپنے دل مىں پائے گا۔ ( معجم کبیر ، ۱۰ / ۱۷۳ ، حدیث:۱۰۳۶۲ )
حضرت امام محمد غزالی مِنْهَاجُ الْعَابِدِیْن میں فرماتے ہیں: حضرت عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے منقول ہے:خود کو بدنِگاہی سے بچاؤ کیونکہ بدنِگاہی دل میں شہوت کا بِیج بَوتی ہے ، پھر شہوت بدنِگاہی کرنے والے کو فتنہ میں مبتلا کردیتی ہے۔ ( [1] )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سُنا کہ احادیثِ مُبارکہ میں بدنگاہی کی کیسی مذمت بیان کی گئی ہے۔لہٰذا جو اس بُری عادت میں مبتلا ہیں انہیں چاہیے کہ اس عادتِ بد سے توبہ کریں اور اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش بھی کریں ورنہ یاد رکھیں ! بدنگاہی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ، اس کی وجہ سے بندہ نہ صرف اللہ پاک کی ناراضی مول لیتا ہے بلکہ ہر وقت اس کے دل و دماغ پر شیطان سوار رہتا ہے ، عجیب سی بےسکونی اورنفسانی خواہشات و خیالات غالب رہتے ہیں اور بندہ نفس کی تسکین کیلئے مزید ہلاکت خیز گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔آیئے ! بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی شرم وحیا اورنظر کی حفاظت کے مزید واقعات سنتے ہیں ۔
منقول ہے :حضرتِ اَسْوَدبن کُلْثُوْم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ بہت ہی باحیا اور صالح نوجوان تھے ۔ چلتے وقت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami