Share this link via
Personality Websites!
اسی طرح صحابیۂ رسول حضرت اُمِّ خلّاد رَضِیَ اللہ عَنْہا کا واقعہ ہے کہ ایک جنگ میں ان کا بیٹا شہید ہو گیا۔ آپ رَضِیَ اللہ عَنْہا ان کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے چہرے پرنِقاب ڈالے باپردہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہو ئیں ، اِس پر کسی نے حیرت سے کہا:اِس وقْت بھی آپ نے مُنہ پر نِقاب ڈال رکھا ہے ! کہنے لگیں:میں نے بیٹا ضَرور کھویا ہے ، حیا نہیں کھوئی۔ ( اَ بِی دَاود ، ۳ / ۹ ، حدیث: ۲۴۸۸ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نےسنا ! پردے کا اہتمام کہ بیٹا شہید ہو جانے کے باوُجُود اُمِّ خلّاد رَضِیَ اللہ عَنْہا نے’’پردہ‘‘ برقرار رکھا۔مگر افسوس ! ہمارے معاشرے میں پردے کو مَعَاذَ اللہ بوجھ سمجھنا شروع کردیا ہے ۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! عورت کا بے پردہ بازاروں اورتفریح گاہوں کا رخ کرنے سے بے شرمی وبےحیائی مزید بڑھتی جارہی ہےاور اس بے پردگی کی وجہ سے مَردوں میں بدنگاہی بھی عام ہوتی جارہی ہے۔آج ہمارے نوجوان بدنگاہی کے عادی ہوتے چلے جا رہے ہیں ، وہ اپنے اس گندے مَقصَد کی خاطِر گلی محلوں ، بازاروں ، شاپنگ سینٹروں ، تفریح گاہوں ، اسکولوں ، کالجوں الغرض جہاں جہاں بے پردہ عورتوں کا مجمع ہوتا ہے ، وہاں مارے مارے پھرتے ، خوب بدنِگاہی کرتے اور اپنی دنیا وآخرت کی بربادی کا سامان کرتے ہیں۔یادرکھئے ! بدنگاہی انسان کا نہیں بلکہ شیطان کا کام ہے۔آئیے ! بد نگاہی کی مذمت پر تین ( 3 ) فرامینِ مُصْطَفٰے سنتے ہیں:
1. اَلْمَرْاَةُ عَوْرَةٌ فَاِذَا خَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ یعنی عورت چھپانے کی چیز ہے ، جب وہ نکلتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami