Share this link via
Personality Websites!
اس وقت اس ڈر سے کہ کوہِ طُور ہمارے اُوپر نہ گرا دیا جائے ، انہوں نے تَوْرات شریف پر عمل کرنے کا وعدہ کر لیا مگر پھر اپنے وعدے سے پھر گئے۔ ( [1] )
غرض؛ آزادی جو ایک بڑی نعمت تھی ، بنی اسرائیل کو چاہئے تھا اس کا شکر ادا کرتے مگر انہوں نے نافرمانی کی ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نافرمانی کی ، اللہ پاک کی کتاب تورات شریف پر عمل کرنے سے انکار کیا ، آخر اِن پر اللہ پاک کا غضب ہوا اَوْر ان پر ذِلَّت مُسَلَّط کر دی گئی ، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ ( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 61 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : ان پر ذلت اور غربت مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب کے مستحق ہو گئے۔
بنی اسرائیل پر یہ ذِلّت کیوں مُسَلَّط کی گئی ، ان پر اللہ پاک کا غضب کیوں ہوا ، اس کا سبب بھی اللہ پاک نے ساتھ ہی بیان فرما دیا ، ارشاد ہوتا ہے :
ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠(۶۱) ( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 61 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : یہ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور مسلسل سر کشی کر رہے تھے۔
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلہ ہے
دیکھے ہیں یہ دِن اپنی ہی غفلت کی بدولت سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام برا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami