Share this link via
Personality Websites!
ہے۔ ( [1] ) اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ(۴۹) وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۰) ( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 49تا50 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : اور ( یاد کرو ) جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بہت بُرا عذاب دیتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو ذَبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔اور ( یاد کرو ) جب ہم نے تمہارےلئے دریا کو پھاڑدیا تو ہم نے تمہیں بچا لیا اور فرعونیوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے غرق کر دیا۔
آزادی کے بعد بنی اسرائیل کے حالات
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو فرعون سے ، فرعون کے ظلم و ستم سے آزادی عطا فرمائی ، اب انہیں چاہئے تھا کہ یہ اللہ پاک کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے ، اللہ پاک کے حُضُور جھک جاتے ، اللہ پاک کی فرمانبرداری کرتے ، اللہ پاک کے اَحْکام دل و جان سے تسلیم کر لیتے مگر بنی اسرائیل نے ناشکری کی۔
*جب فِرْعَون غرق ہوا ، بنی اسرائیل نے اسے غرق ہوتے خود دیکھا تھا ، اللہ پاک نے دریا کے اندر 12 رستے بنا دئیے تھے ، دریا کا پانی دِیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا ، درمیان میں راستے بن گئے تھے ، بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر کر آرام سے دریا پار کر رہے تھے ، فرعون بھی ان کے پیچھے دریا میں داخِل ہوا ، اِدھر بنی اسرائیل دریا کے دوسرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami