Share this link via
Personality Websites!
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے اس دعوے پر دلائل دئیے ، معجزات دکھائے ، فِرْعَون کو ، اس کی قوم کو سمجھایا مگر فِرْعَون ضِدّی تھا ، ضِدِّی ہی رہا ، سرکش تھا ، سرکش ہی رہا ، اس کے سَر پر طاقت کا ، سلطنت کا ، تاج و تخت کا نشہ سُوار تھا ، اس بدبخت نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نافرمانی کی ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی شان میں گستاخیاں کیں ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو ، بنی اسرائیل کو تکلیفیں پہنچانے کی ناپاک کوشش کی ، مَعَاذَ اللہ! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو شہید کر دینے کے منصوبے بنائے۔ جب فِرْعَون نے تمام حدیں پار کر دیں ، اپنے کفر میں بالکل ڈھیٹ ہو گیا اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے پر کسی طرح تیار نہ ہوا تو اللہ پاک نے فِرْعَون کو اس کے لشکر سمیت دریا میں غرق کر دیا اور یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنّم کا ایندھن بن گیا۔ ( [1] ) یُوں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے صدقے میں بنی اسرائیل کو آزادی کی نعمت نصیب ہو گئی۔
پیارے اسلامی بھائیو! کفر کی غُلامی سے ، کافِروں ، ظالموں کی غُلامی سے آزادی مل جانا اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ پاک نے سورۂ بقرہ میں بنی اسرائیل کا ذِکْر فرمایا ہے ، اس میں بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی گئی ، اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو جو نعمتیں عطا فرمائیں ، ان کو شُمار کیا گیا۔ ان میں پہلی جو نعمت اللہ پاک نے بیان فرمائی وہ یہی آزادی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami