Share this link via
Personality Websites!
خواہش کے ، اپنے اندر کے غُرور اور تکبر کے غُلام ہیں ، اللہ پاک کا سچا بندہ وہ ہے جو ہر حال میں ایک جیسا رہتا ہے ، جو غریب ہو تب بھی شکر گزار ہوتا ہے اور اگر اسے منصب مِل جائے ، تب بھی اللہ پاک کا شکر گزار رہتا ہے۔
بنی اسرائیل کو بھی آزمایا گیا ، فِرْعَون کو بھی آزمایا گیا ، حضرت یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام جو مِصْر کے حکمران تھے ، جو مِصْر کے باقاعِدہ مالِک تھے ، قحط کے دِنوں میں حضرت یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام نے باقاعدہ مِصْر کو خریدا تھا ، تمام اَہْلِ مِصْر کو خرید کر اپنا غُلام بنایا تھا ، پھر آزاد کر دیا تھا ، اُن ہی حضرت یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی اَوْلاد کو ، آپ کے بھائیوں کی اَوْلاد کو آج مِصْر ہی میں غُلام بنا دیا گیا ، فِرْعَون کو مِصْر کی بادشاہی عطا کر دی گئی ، یہ ایک امتحان تھا ، اس امتحان میں بنی اسرائیل نے تو صبر کیا مگر فِرْعَون نے سرکشی کی ، اس بدبخت نے خُدائی کا دَعْویٰ کیا ، بندہ تھا ، بندہ نہ بنا ، خُدا بننے کی کوشش کی ، اس کا غُرُور کُھل کر دُنیا کے سامنے آگیا ، اس کے اندر کا گھمنڈ سَر چڑھ کر بولنے لگا۔ تب اللہ پاک نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو نبی بنا کر بھیجا۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فِرْعَون کو حق کی جو دعوت دی ، بنیادی طور پر اس دعوت کے 2موضوع تھے : 1 : فِرْعَون جو خُدائی کا دعویٰ کرتا ہے ، یہ اپنے اس دعوے سے توبہ کرے ، بندہ ہے ، بندہ بنے ، اللہ پاک وَحْدَہٗ لَاشَرِیْک کے حُضُور سَر جھکائے اور اللہ پاک کی فرمانبرداری میں آجائے 2: فِرْعَون نے بنی اسرائیل کو ناحق اپنا غُلام بنا لیا ہے ، انہیں غُلامی سے آزاد کر دے۔ قرآنِ کریم میں ہے ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :
قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ (۱۰۵) ( پارہ9 ، سورۂ اَعْراف : 105 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : بیشک میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تَو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami