Share this link via
Personality Websites!
کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذِلَّت کے غار بخشے
جو سب کے ماتھے پہ مُہْرِ قُدْرت لگا رہا ہے ، وہی خُدا ہے
اَصْل میں یہ ایک امتحان ہوتا ہے ، انسان کو جانچا جاتا ہے ، دیکھا جاتا ہے : کون کیسا ہے؟ اللہ پاک تو سب کچھ جانتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ کون نیک ہے ، کون بَد ہے ، اللہ پاک جانتا ہے کہ کون واقعی نیک ہے اور کون صِرْف نیک نظر آتا ہے ، اللہ پاک کو تَو جانچ کی ، امتحان کی حاجت ہی نہیں ہے مگر انسان کے اندر کا جو جَوہَر ہے ، ایک اچھے انسان کے اندر کی جو اچھائی ہے اور ایک بُرے انسان کے اندر کا جو شیطان ہے ، اسے دُنیا کے سامنے ظاہِر کیا جاتا ہے ، بادشاہوں کو غُلام بنا کر ، غُلاموں کو بادشاہ بنا کر اِنْسان کی حقیقت سے پردہ اُٹھایا جاتا ہے ، کتنے ایسے ہیں جو بادشاہ بَن کر ، کسی بڑے عہدے پر رِہ کر ، منصب پر رِہ کر بڑے نیک ہوتے ہیں ، بڑے شکر گزار ہوتے ہیں ، بڑے رحم دِل ہوتے ہیں مگر جب ان سے بادشاہی چھن جاتی ہے ، جب ان سے منصب لے لیا جاتا ہے ، تب ان کے اندر کا اَصْل انسان کھل کر سامنے آتا ہے ، تب یہ اپنے اُسی رَبِّ کریم سے شِکوہ کرنے لگتے ہیں ، جس نے انہیں بادشاہ بنایا تھا ، جس نے انہیں عہدہ اور منصب دیا تھا ، یہ لوگ اصل میں اللہ پاک سے محبت کرنے والے نہیں ہوتے ، یہ اپنے منصب اور عہدے سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں ، کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فقیر ہوں ، غریب ہوں تو بڑے نیک ہوتے ہیں ، رحم دِل ، شکر گُزار ہوتے ہیں مگر جیسے ہی منصب ملتا ہے ، جیسے ہی عہدہ ملتا ہے ، جیسے ہی چار پیسے جیب میں آتے ہیں تو ان کے اندر کا غرور ، ان کے اندر کا گھمنڈ کُھل کر سامنے آجاتا ہے ، یہ بھی اللہ پاک سے محبت کرنے والے نہیں بلکہ اَصل میں اپنے اندر کی اُس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami