Share this link via
Personality Websites!
مگر یہاں جو سمجھنے کا نکتہ ہے وہ حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا یہ فرمان ہے : میں نے یہ مرتبہ اِطَاعتِ مصطفےٰ کے ذریعے حاصِل کیا ہے۔ معلوم ہوا؛ اَصْل میں آزادی غُلامئ رسول ہی سے ملتی ہے۔ کلیاتِ اِقْبَال میں ہے :
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے ، پا بہ گِل بھی ہے انہی پابندیوں میں حاصِل آزادی کو تُو کر لے ( [1] )
” صَنَوبَر “ ایک درخت ہے ، عموماً کشمیر کے علاقے میں پایا جاتا ہے ، یہ بہت لمبا ہوتا ہے ، اقبال نے اس کی مثال دی ہے کہ صنوبر آسمان کی طرف جانےیعنی لمبا ہونے میں آزاد ہے ، جتنا چاہے اُونچا ہو جائے مگر ” پَابَہ گِل بھی ہے “ یعنی اس کی جڑیں زمین میں قید ہیں ، اگر صنوبر کی جڑوں کو زمین کی قید سے آزاد کر دیا جائے تو اس کے اُونچا ہونے کی آزادی ختم ہو جائے گی ، یہ گِر جائے گا۔ تُم بھی انہی پابندیوں سے آزادی حاصِل کر لو ، چاند پر جانا ہے ، جاؤ ، ترقی کرنی ہے ، کرو ، مگر قرآنِ کریم کی ، اِطَاعتِ رسول کی زنجیر گلے میں ڈال لو ، پھر جتنا مرضِی اُڑتے رہنا ، گِرنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔
اے عاشقانِ رسول ! یہ ہے وہ آزادی جسے خُود مُصَوِّرِ پاکستان ڈاکٹر اقبال نے بیان کیا ہے۔اپنے آپ سے پوچھئے! کیا ہمیں یہ آزادی حاصِل ہے؟ کیا ہم واقعی صحیح معنوں میں ” غُلامِ رَسُول “ ہیں؟ کیا ہمارا چہرہ غُلامانِ مصطفےٰ جیسا ہے؟ کیا ہمارا لباس غُلامانِ مصطفےٰ جیسا ہے؟ ہمارا جینے کا انداز ، ہمارے طَور طریقے ، ہمارا اُٹھنے ، بیٹھنے کا انداز ، ہمارا سونے جاگنے کا انداز ، ہمارا چلنے پھرنے کا انداز ، ہمارا بولنے کا انداز ، ہمارا کھانے پینے کا انداز ، ہمارا کمانے کا انداز ، ہمارے اَخْلاق ، ہمارے اَوصاف کیا یہ سب کچھ غُلامانِ مصطفےٰ جیسا ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر کب ہو گا؟ 74 سال تو گزر چکے آزادی حاصِل ہوئے ، اگر ابھی بھی ہم صحیح
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami