Share this link via
Personality Websites!
لے کر دریائے فرات کے کنارے تشریف لے جاتے ، وہیں اللہ پاک کی عبادت کیا کرتے تھے ، داتا حُضُور رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اپنی مشہور کتاب ” کَشْفُ الْمَحْجُوب “ میں لکھتے ہیں : ایک روز ایک شخص دریائے فرات کے قریب سے گزرا ، اس نے دیکھا کہ حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نماز پڑھ رہے ہیں اور بھیڑیا بکریوں کی رکھوالی کر رہا ہے ، یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا ، وہ شخص حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے ملاقات کے لئے ٹھہر گیا ، جب آپ نے نماز مکمل فرمائی تو سلام عرض کیا ، آپ نے سلام کا جواب دیا ، اس شخص نے عرض کیا : عالی جاہ! آپ کی بکریوں سے بھیڑئیے کو ایسا لگاؤ ہے کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا تھا؟ فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کا مالِک اللہ پاک سے محبت کرتا ہے ( یعنی میں اللہ پاک سے محبت کرتا ہوں ، اس لئے مجھ سے ، میری چیزوں سے جانور تک محبت کرتے ہیں ) ۔ پھر حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے لکڑی کا ایک پیالہ پتھر کے نیچے رکھا ، فوراً اس پتھر سے دُودھ اور شہد کے دو چشمے جاری ہوئی ، آپ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دُودھ اور شہد سے بھرا ہوا پیالہ اس شخص کو دیا ، یہ دیکھ کر وہ شخص حیران رِہ گیا اور بولا : عالی جاہ! آپ نے یہ مقام کیسے حاصِل کیا ہے۔ فرمایا : سیدِ عالَم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطَاعت و فرمانبرداری کے ذریعے۔ ( [1] )
کی مُحَمَّد سے وفا تُو نے تَو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں
سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے آزادی۔ کیا دُنیا میں کہیں ایسی آزادی ہے کہ بھیڑئیے بکریوں کی رکھوالی کرتے ہوں؟ ہاں! یہ بات دُرست ہے کہ یہ حضرت حبیبِ راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی کرامت تھی اور کرامت اللہ پاک کی عطاء ہے ، کوئی بھی اپنی محنت سے وَلِی نہیں بَن سکتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami