Share this link via
Personality Websites!
” غلامئ مصطفےٰ “ کر لینا ، یہ اَصْل آزادی ہے ، اسی آزادی کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا مگر کیا ہم یہ غُلامی کر رہے ہیں؟ آہ! 74 سال گزر گئے ، ہم نے یہ غُلامی نہ کی ، اُلٹا ہم نے آزادی کا مفہوم ہی بدل دیا ، ہم نے بےراہ رَوِی کو آزادی سمجھ لیا ، ہم نے بےلگام ہو جانے کو آزادی سمجھ لیا ، عریانی کا ، فحاشی کا ، فیشن پرستی کا نام آزادی رکھ دیا۔ یہ ہر گز آزادی نہیں ہے ، یہ تو الٹا نفس و شیطان کی غُلامی ہے۔ شیطان سب سے بڑا کافِر ہے ، کافِروں کی حکومت سے چُھوٹ گئے تھے ، پھر خود کو سب سے بڑے کافِر یعنی شیطان کی غُلامی میں سونپ دیا اور اس غُلامی کا نام آزادی رکھ دیا ، کیا یہ آزادی ہے؟ نہیں یہ اَصْل میں غُلامی ہے۔
یہ بات ہمیشہ کے لئے ذہن میں بٹھا لی جائے ، آزادی صِرْف اور صِرْف اللہ پاک کی بندگی سے اور اِطَاعتِ مصطفےٰ سے ملتی ہے۔ اس کے بغیر دُنیا میں کہیں آزادی نہیں ملے گی ، جو دُنیا کے پیچھے بھاگتا ہے ، وہ دُنیا کا غُلام۔ جو مال کے پیچھے بھاگتا ہے ، وہ مال کا غُلام۔ جو حُسْن کا شیدائی ہے ، وہ حُسْن کا غُلام۔ جو مقام و مرتبے کے پیچھے ، منصب و عہدے کے پیچھے بھاگتا ہے ، وہ منصب کا ، عہدے اور مقام و مرتبے کا غُلام ہے۔ اور جو سب کچھ چھوڑ کر صِرْف اللہ پاک کی بندگی ، اُس کے پیارے رسول ، رسولِ مقبول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری کرتا ہے وہ ہر جھنجٹ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر اِقبال نے کہا :
دَرْ اِطَاعت کَوْش اَے غَفْلَت شِعَار مِیْ شَوَد اَز جَبْر پَیْدا اِخْتِیَار ( [1] )
اے غافِل! اطاعت میں خوب کوشش کر کہ نفس کو قابُو کرنے سے ہی آزادی ملتی ہے۔
حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ تابعی بزرگ ہیں ، حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی صحبت میں رہے ، حضرت حبیب راعی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بکریاں رکھی ہوئی تھیں ، انہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami