Share this link via
Personality Websites!
نے عطا فرمائی ، جس آزادی کے لئے پاکستان بنا تھا ، وہ اَصْل میں غُلامئ مصطفےٰ کا نام ہے۔ جب بَرِّ صغیر میں مسلمانوں پر کافِر حکومت کر رہے تھے ، اس وقت ہم آزادی سے غُلامئ مصطفےٰ کا کُھل کر اِظْہار نہیں کر سکتے تھے ، اللہ پاک نے ہمیں علیحدہ سے آزاد ملک عطا فرمایا تاکہ ہم پُوری آزادی کے ساتھ غلامئ مصطفےٰ کا اِظْہار کر سکیں ، ہمیں نمازیں پڑھنے میں رُکاوٹ نہ ہو ، روزے رکھنے میں رکاوٹ نہ ہو ، قربانی کرنے میں رکاوٹ نہ ہو ، اِسلام کی دیگر تعلیمات پر عمل کرنے میں ہم پر کوئی رُکاوٹ نہ ہو ، ہم آزادی سے قرآنِ کریم کے مُطَابق ، حدیثِ رسول کے مطابق ، اپنے بزرگوں کی سیرت سے رہنمائی لیتے ہوئے ” غلامئ مصطفےٰ “ کا بھرپُور اِظْہار کر سکیں۔ اس آزادی کے لئے ہم نے پاکستان حاصِل کیا ۔
اِقبال کی نظر میں آزادی کا مطلب
جب ڈاکٹر اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا ، اس پر کافِروں اور بعض نام نہاد مسلمانوں نے بہت شور مچایا ، جس پر دونوں طرف سے باقاعدہ تحریری و تقریری مباحثے بھی چلتے رہے ، اس وقت ڈاکٹر اقبال نے ایک رُباعی لکھی ( [1] ) اس کے آخری شعر میں لکھا :
بَمُصْطَفٰے بَرَسَاں خَوَیْش رَا کہ دِیْں ھَمَہ اُوسْت اَگَر بَہ اُوْ نَہ رَسِیْدِی تَمَام بُوْلَھَبِیْ اَسْت ( [2] )
وضاحت : یعنی خود کو کھینچ کر اپنے آقا ، محمد مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں ڈال دو ، یہی غُلامی اَصْل دین ہے ، اگر یہ غُلامی نہ کر سکو تو یہ دِین داری نہیں ، بلکہ اَبُولہب کافِر کی پیروی ہے۔
یہ ہے آزادی۔ خُود کو کھینچ کر مصطفےٰ جانِ رحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں ڈال دینا ، اپنی مرضی ، اپنی خواہش ، اپنی تمنّا سب فنا کر کے سچے دل سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami