Share this link via
Personality Websites!
آزادی کے ساتھ عمل کرنے میں دُشواریاں تھیں ، کافِر حکومت جب چاہتی ، جس دِینی مسئلے میں چاہتی رُکاوٹ کھڑی کر دیتی تھی ، اَصْل جو آزادی ہمیں حاصِل ہوئی وہ یہی ہے کہ ہمیں کھل کر اپنے دِین پر عمل کرنے میں کوئی رُکاوٹ نہ ہو ، قانون بھی مسلمانوں کا ہو ، قانون ساز بھی مسلمان ہوں اور قانون پر عمل کرنے والے بھی مسلمان ہوں۔ دو قومی نظریہ جو پاکستان کی اَصْل بنیاد ہے ، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں ، کافِر ایک علیحدہ قوم ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کا وَطَن بھی علیحدہ ہو جہاں یہ آزادی کے ساتھ اپنے مذہب کے مطابق ، اپنی تہذیب کے مطابق ، اپنے علیحدہ طرزِ زِندگی کے مطابق یعنی قرآن و سُنّت کی تعلیم کے مطابق زِندگی گزار سکیں۔
ایک بار قائِدِ اعظم محمد علی جناح نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کہا :
Our God is Separate. Our Rasool is Separate
ہمارا خُدا الگ ، ہمارے رسول الگ ( یعنی ہم ایک خُدا کو ماننے والے ہیں ، ہم غُلامانِ مصطفےٰ ہیں )
Our Religion is Separate. Our Culture is Separate
ہمارا دِیْن جُدا ، ہماری ثقافت ، طرزِ زِندگی الگ ہے۔
Therefore we want a separate state. in which we can ( [1] ) live Islamic life.
اس لئے ہم اپنا علیحدہ ملک چاہتے ہیں ، جہاں ہم اپنے دِین کے مطابق اسلامی زندگی گزار سکیں
یہ ہے آزادی ، ایک بھرپُور اسلامی زِندگی گزارنے کی آزادی۔ اس آزادی کے لئے تقریباً 100 سال مسلمانوں نے جِدّ و جُہد کی ، اس آزادی کے لئے ہی 1857ء میں 22 ہزار عُلَمائے کرام شہید ہوئے۔ دوسرے لفظوں میں یُوں کہہ لیجئے کہ آزادی جو ہمیں اللہ پاک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami