Share this link via
Personality Websites!
شریف۔ ہمارے پاس اللہ پاک کی کتاب ہے : قرآنِ کریم۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نافرمانی کی ، تورات کے اَحْکام پر عمل نہ کیا ، اللہ پاک کے نافرمان ہوئے ، آزادی کی نعمت کا شکر ادا نہ کیا ، انجام کیا ہوا؟
وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ ( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 61 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : ان پر ذلت اور غربت مسلط کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب کے مستحق ہو گئے۔
اب ہر کوئی اپنے متعلق غور کرے! ہم قرآنِ کریم پر کتنا عمل کرتے ہیں؟ ہم اپنے آقا و مولیٰ ، مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کتنے فرمانبردار ہیں؟ ہم نمازیں کتنی پڑھتے ہیں؟ ہم روزے کتنے رکھتے ہیں ، حج کا جذبہ ہمارے اندر کتنا ہے ، زکوٰۃ کی ادائیگی میں کیا صورتحال ہے؟ جھوٹ ، غیبت ، چغلی ، وعدہ خلافی ، حسد ، تکبر ، خودپسندی ، فلمیں ڈرامے ، گانے باجے ، بےپردگی ، بےحیائی ، فیشن پرستی ، بےایمانی ، دونمبری ، بدکاری ، شراب ، سُود ، رشوت ، حرام کمائی ، لڑائی جھگڑے ، گالی گلوچ ، قتل و غارت گری وہ سب کام جن سے قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ، ہم اِن سے کتنا بچتے ہیں۔ والدین کی عزت ، پڑوسیوں کے حقوق ، دوستوں کے حقوق ، رشتہ داروں کے حقوق ، اَہْلِ محلہ کے حقوق ، مسلمان کی خیر خواہی ، غریبوں سے محبت ، بڑوں سے محبت ، چھوٹوں پر شفقت وہ تمام کام جو کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ، ہم اُن پر کتنا عمل کرتے ہیں۔
آہ! سنجیدگی کے ساتھ ہم اپنا مُحَاسَبہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح ہماری حالت بھی سخت افسوسناک ہے بلکہ انتہائی افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آزادی کی نعمت جس کا ہم نے شکر ادا کرنا تھا ، ہم نے اس آزادی کا مفہوم ہی بدل کر رکھ دیا ، آج بالکل بےلگام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami