Share this link via
Personality Websites!
کے دِلوں میں پاکستان کی محبت ڈالی گئی بلکہ عُلَمائے اہلسنت کے متعلق تو کتابوں میں یہاں تک بھی لکھا ہے کہ 1946ء میں جب تحریکِ پاکستان اپنے آخری مراحِل پر تھی ، اس وقت علمائے کرام نے گھر گھر جا کر بھی دعوتیں دیں اور مسلمانوں میں تحریکِ پاکستان کی ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی محبت بیدار کی۔ ( [1] ) خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا عبد العلیم میرٹھی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ قائِدِ اعظم محمد علی جناح کے باقاعِدہ رفیق تھے ، قائِدِ اعظم نے انہیں بیرونِ ممالک سَفِیر بنا کر بھیجا ، عبد العلیم میرٹھی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دوسرے ملکوں میں جا کر نظریۂ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کے اُصُول و مقاصِد بیان کئے ، اس وقت قائِدِ اعظم نے علّامہ عبد العلیم میرٹھی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو سَفِیْر اِسْلام کا خطاب دیا۔ ( [2] ) پاکستان بننے سے چند ماہ پہلےجو حج ہوا ، اس وقت تحریکِ پاکستان اپنے آخری مراحل پر تھی اور کافِر پُورا زَور لگا رہے تھے کہ پاکستان نہ بنے ، اُس وقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پیر صاحب قُطْبِ مدینہ ، سیدی ضیاءُ الدِّیْن مدنی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی دُعاؤں نے بڑا کام دکھایا ، اُس سال جو مسلمان برِّ صغیر سے حج کے لئے حاضِر ہوئے ، ان میں سے بعض عاشقانِ رسول نے سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی خِدْمت حاضِر ہو کر عرض کیا : حُضُور! تحریکِ پاکستان آخری مراحل میں ہے اور کافِر پُوری طاقت کے ساتھ پاکستان کے خِلاف کھڑے ہیں ، دُعا فرمائیے کہ مسلمانوں کی مشکلات آسان ہو جائیں۔ عاشقانِ رسول کی درخواست پر سیدی قطبِ مدینہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ روضۂ رَسُول پر حاضِر ہوئے ، خوب دل جمعی کے ساتھ پاکستان کے لئے دُعا کی ، پھر عاشقانِ رسول سے فرمایا : فِکْر نہ کرو! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! پاکستان ضرور بنے گا ، کوئی بھی دُشمن
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami