Share this link via
Personality Websites!
اب اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر علیحدہ وَطَن کا مُطَالبہ شروع ہوا یا یُوں کہہ لیجئے کہ پہلے تھی : تحریکِ آزادی۔ اب صِرْف تحریک آزادی نہیں بلکہ تحریکِ پاکستان بھی بَن گئی۔
بَس اب کیا تھا؛ مسلمانوں کے دِل میں اپنے علیحدہ وَطن کی خواہش اُبھری اوردیکھتے ہی دیکھتے پُورے بَرِّ صغیر میں پھیل گئی ، کیا بچے ، کیا جوان ، کیا بوڑھے ہر ایک کی زبان پر بَس ایک ہی نعرہ تھا : لے کے رہیں گے پاکستان ، بَن کے رہے گا پاکستان۔
پاکستان کا مطلب کیا : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔ کون ہمارے راہنما : مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللہ۔
تحریکِ پاکستان اور علمائے اہلسنت
اس وقت تک اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ دُنیا سے پردہ فرما چکے تھے ، البتہ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ایک تنظیم بنائی تھی۔ یہ تنظیم اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے ہونہار شاگردوں ، ماہِر عُلَمائے اہلسنت پر مشتمل تھی ، اس تنظیم نے تحریکِ پاکستان میں بھرپُور حصہ لیا۔ ( [1] ) *..صَدْرُ الْاَفَاضِل مولانا نعیم الدین مراد آبادی *..مفتی احمد یار خان نعیمی *..خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا عبد العلیم میرٹھی *..مولانا شاہ احمد نورانی ، ان کے والِد ، ان کے تایا وغیرہ *..مولانا دیدار علی شاہ *..محدثِ اعظم ہند محدث کچھوچھوی *..مُحَدِّث علی پُوری *..اَبُو الْحَسَنات سید احمد قادری *..عَلَّامہ عبد الغفور ہزاروی *..عَلّامہ عبد الستار خان نیازی *..خواجہ قمر الدین سیالوی *..پیر جماعت علی شاہ *..عَلّامہ سید احمد سعید کاظمی *..پیر صاحب مانکی شریف ، *..پیر صاحب زکوڑی شریف رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہمْ اَجْمَعِیْن اور ان کے علاوہ سینکڑوں عُلما و مَشَائِخِ اہلسنت نے تحریک پاکستان میں خوب حِصّہ لیا ، بَرِّ صغیر کے گوشے گوشے میں تقریریں ہونے لگیں ، نظمیں پڑھی جانے لگی ، مسلمانوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami