Share this link via
Personality Websites!
کیا ، ( [1] ) پھر 1930ء میں اِلٰہ آباد کی کانفرس میں باقاعدہ طور پر عوام کے سامنے ڈاکٹر اقبال نے دو قومی نظریے کا اعلان کیا۔
یہ دو قومی نظریہ ڈاکٹر اقبال کی اپنی سوچ اور فِکْر نہیں تھی ، اَصْل میں دو قومی نظریہ قرآن و حدیث کی تعلیم ہے ، 28 وِیں پارے میں سورۃ ہے : سورۂ مُمْتَحِنَہ۔ اس سُورۂ مبارکہ کو پڑھیں ، سمجھیں ، دوقومی نظریہ جو پیش کیا گیا ، اس کی بھرپُور وضاحت سورۂ مُمْتَحِنَہ میں موجود ہے۔ تحریکِ آزادی کے عرصے میں سب سے پہلے سیدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے دو قومی نظریہ پیش کیا ، 1897ء میں یعنی ڈاکٹر اقبال کے دو قومی نظریہ پیش کرنے سے 29 سال پہلے پٹنہ میں ایک کانفرس ہوئی ، جس میں اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے باقاعدہ سے دوقومی نظریہ بیان فرمایا ، فتاویٰ رضویہ ، جلد : 14 میں سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا ایک رسالہ ہے : اَلْمَحْجَۃُ الْمُؤْتَمِنَہ ، یہ رسالہ اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے 1920ء میں لکھا ، اس میں سورۂ مُمْتَحِنَہ کی چند آیات کی تفسیر ہے اور ان کی روشنی میں دو قومی نظریہ کی بھرپُور وضاحت کی گئی ہے۔ ( [2] )
اَصْل میں 1857ء میں جب تحریک آزادی شروع ہوئی ، اس وقت سے لے کر ڈاکٹر اقبال کے دو قومی نظریہ بیان کرنے تک مسلمان پُورے بَرِّ صغیر کی آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے ، ڈاکٹر اقبال نے دو قومی نظریہ میں اَصْل یہ وضاحت کی کہ اب سے مسلمان پُورے بَرِّ صغیر کی آزادی کی بجائے اپنے لئے علیحدہ وَطَن کا مطالبہ کریں ، یعنی ڈاکٹر اقبال نے مُطَالبہ تبدیل کیا ، پہلے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پُورے بَرِّ صغیر کی آزادی کا مطالبہ تھا ،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami