Share this link via
Personality Websites!
بند کروائے ، قرآنِ کریم کی غلط تفسیریں کیں ، قرآنی آیات کے مَعَانِی بدلے ، مسلمانوں کا ذہن بنایا کہ قرآنِ کریم اس وقت تمہیں تمہارے تعلیمی ادارے بند کرنے کا ، تمہارے کاروبار بند کرنے کا حکم دیتا ہے ، لہٰذا تم اس پر عمل کرو۔ اس وقت پُورے بَرِّ صغیر میں مسلمانوں کے چند ہی سکول و کالج تھے ، انہیں بھی بند کیا جانے لگا تو ڈاکٹر اقبال نے اس کی شدید مخالفت کی اور لاہور کے اسلامیہ کالج کے ایک استاد کے ذریعے اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے اس بارے میں فتویٰ پوچھا ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے قرآن و سُنَّت کی روشنی میں جواب دیا اور کافِروں کی سازش کو ناکام بنایا۔ ( [1] )
ایک طرف اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ عِلْم کے دریا بہا کر مسلمانوں کا اِیْمان بچا رہے تھے اور دوسری طرف اپنے محبوب آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعتیں لکھ کر ، شاعِری کی صُورت میں شانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیان کر کے مسلمانوں کے دِل میں عشقِ رسول کو گرما رہے تھے ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے خُلَفَاء ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے مُرِیْد ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے چاہنے والے دیگر علمائے اَہلسنت اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کو بَرِّ صغیر کے چپے چپے میں پھیلا رہے تھے ، خطیب حضرات منبروں پر ، محفلوں میں ان تعلیمات کو عام کر رہے تھے ، نعت خواں حضرات اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی لکھی ہوئی نعتیں پڑھ کر مسلمانوں کے عشقِ رسول کو گرما رہے تھے۔
دسمبر 1928ء میں ڈاکٹر اقبال نے ایک کانفرس کے دوران دو قومی نظریہ بیان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami