Share this link via
Personality Websites!
کہلانے والے ، بظاہِر کلمہ پڑھنے والے کافِروں کو اپنا پیشوا مان رہے تھے ، کافِروں کو منبر پر بٹھایا جا رہا تھا ، مسجدوں میں کافِروں کے حق میں نعرے لگائے جا رہے تھے ، اگر اس وقت کافِروں کی یہ سازش کامیاب ہو جاتی تو مسلمانوں کو آزادی تو کیا ملتی ، الٹا اپنے دِیْن اور ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ، اس لئے آزادی کی تاریخ میں یہ سخت مشکل وقت تھا ، اس مشکل وقت میں ایک شخصیت میدان میں تھی اور وہ تھے : ہمارے آقا ، اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ۔ تحریکِ خِلافت چلی ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ” دَوَامُ الْعَیْش “ نامی رسالہ لکھ کر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی ، تحریکِ ترکِ موالات چلائی گئی تو اعلیٰ حضرت نے رسالہ لکھا : نَابِغُ النُّوْر۔ اس میں کافِروں کے بچھائے گئے جال کے تار بکھیرے گئے ، تحریکِ ہجرت چلائی گئی تو اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے رسالہ لکھا : اِعْلَامُ الْاَعْلام۔ اس رسالے نے کافِروں کی سازش کو تار تار کر کے رکھ دیا ، یہ تینوں رسالے آج بھی فتاویٰ رضویہ شریف کی جلد : 14 میں جگمگا رہے ہیں۔
جو کافِر قرآن و سُنَّت پر اعتراض کر کے مسلمانوں کا ایمان کمزور کرنے کی سازش کر رہے تھے ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے انہیں منہ توڑ جوابات دئیے ، کافِروں نے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بےعیب ذات میں مَعَاذَ اللہ! عیب نکالنے کی ناپاک جسارت کی ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے انہیں منہ توڑ جواب دے کر ناموسِ رسول پر ، اپنے آقا ومولیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عزَّت پر پہرا دیا۔ کافِروں نے مسلمانوں کی معیشت پر حملہ کیا ، اعلیٰ حضرت نے اس کا رَدّ کیا ، کافِروں نے مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ، سکول ، کالج وغیرہ بند کروائے اور وہ بھی خود بند نہ کئے ، مسلمانوں ہی کے ہاتھوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami