Share this link via
Personality Websites!
ہے ، آخر کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔
1857ء میں اگرچہ مسلمانوں کو ناکامی ہوئی مگر مسلمان پیچھے نہیں ہٹے ، مسلمانوں نے آزادی کی کوشش جارِی رکھی ، کافِروں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کے اندر سے آزادی کا جذبہ کسی طرح کم نہیں ہوتا ، تب انہوں نے مسلمانوں کی اَصْل طاقت کو توڑنے کا ، یعنی مسلمانوں کے ایمان کمزور کرنے کا ، مسلمانوں کے اندر سے عشق رسول کا جذبہ کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا ، اس کے لئے کافِروں نے اپنے پڑھے لکھے لوگ عوام کے اندر اُتار دئیے ، یہ لوگ اسلام کی تعلیمات پر اعتراض کرنے لگے ، قرآنِ کریم پر ، پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ سیرت پر اعتراض ہونے لگے ، یُوں عوام کے ذِہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش ہونے لگی۔ ( [1] )
اسی دوران تحریکِ خِلافت چلی ، تحریکِ ترکِ مَوَالات چلی ، تحریکِ ہجرت چلی ، ان تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کو ورغلایا گیا ، بہت سارے مسلمان اس سازش کا شکار ہو گئے ، کئی ایک لیڈر بھی کافِروں کے اس جال میں پھنس گئے ، قائِدِ اعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر محمد اقبال ان تحریکوں کو مسلمانوں کے لئے سخت نقصان دِہ سمجھ رہے تھے ، جب تحریکِ ترکِ موالات چلی ، کانگریس نے بھی اس میں حِصَّہ لیا ، اسی وقت قائِدِ اعظم نے کانگریس سے اپنا تعلق ختم کر لیا لیکن اس وقت سخت فتنے تھے ، فتنوں کی گویا آندھی چل رہی تھی ، کافِر مسلمانوں کو آزادی کا لالچ دے کر اُن کے دِین سے ، اُن کے مذہب سے ، اُن کے ایمان سے دُور کر رہے تھے ، گلیوں سڑکوں پر جلوس نکالے جا رہے تھے ، بہت سارے مسلمان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami