Share this link via
Personality Websites!
وِلادت 1856ء میں ہوئی اور آزادی کی یہ پہلی کوشش 1857ء میں کی گئی ، یعنی اس وقت اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی عمر مبارک 1 سال تھی ، اعلیٰ حضرت کے دادا جان حضرت مولانا مفتی رضا علی خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اور آپ کے والدِ محترم مولانا نقی علی خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اس فتوے کی تائید کی۔ ( [1] )
آزادی کی اس کوشش میں مسلمانوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ، علَّامہ فَضْلِ حق خیر آبادی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو سخت سزائیں دی گئیں ، علَّامہ کفایت علی کافِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اور دیگر کئی عُلَمائے کرام کو مَعَاذَ اللہ! شہید کر دیا گیا ، ایک اندازے کے مطابق اُس وقت اَہلسنت کے تقریباً 22 ہزار عُلَمائے کرام شہید ہوئے۔ ( [2] )
پیارے اسلامی بھائیو! یہ تحریکِ آزادی کی پہلی قربانیاں تھیں ، اس وقت اگرچہ بظاہِر ناکامی ہوئی مگر ایک مسلمان جس کے دِل میں ایمان پختہ ہو ، جس کا یقین پختہ ہو وہ ناکامیوں سے گھبراتا نہیں بلکہ مزید آگے قدم بڑھاتا ہے ، ڈاکٹر اقبال نے بڑی خوبصورت بات کہی :
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
عُقَاب جسے پرندوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے ، یہ اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے ، پھر واپس پلٹتا ہے ، پھر حملہ کرتا ہے ، پھر پلٹتا ہے ، ڈاکٹر اقبال نے اس کی مثال دی کہ عُقاب کا یُوں جھپٹنا ، پلٹنا ، ناکامی نہیں بلکہ یہ اس کی ورزش ہے جس سے عُقَاب اپنے خون کی گردش ( Blood Circulation ) کو برابر رکھتا ہے ، اسی طرح بندۂ مؤمن بھی اپنے مقصد کی طرف بڑھتا ہے ، ناکامی ہوتی ہے ، پھر بڑھتا ہے ، ناکامی ہوتی ہے ، پھر بڑھتا ہے ، مؤمن ہار نہیں مانتا ، کوشش کرتا رہتا ہے ، کرتا رہتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami