Share this link via
Personality Websites!
ڈکیتیاں کرنے کا نام نہیں ہے ، ظُلْم کا مفہوم بہت وسِیْع ہے۔ فرمانِ اعلیٰ حضرت کا خُلاصہ ہے : ہر وہ نقصان یا تکلیف جو شرعی اجازت کے بغیر کسی کے دِین ، عِزَّت ، جان ، جسم ، مال یا صِرْف دِل کو پہنچائی جائے ، یہ تکلیف چاہے زبان سے ہو ، چاہے فعل سے ہو ، چاہے تَرْک سے یعنی ( کوئی کام کرنا تھا ، نہ کیا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچی ) ، اسے ظُلْم کہتے ہیں۔ ظُلْم کی کُل 18 قسمیں ہیں اور ہر قِسْم کے تحت سینکڑوں صُورتیں پائی جاتی ہیں۔ ( [1] )
پیارے اسلامی بھائیو ! اب دیکھئے ! کیا کیا چیزیں ظُلْم میں شامِل ہیں ، مثلاً * آستینیں چڑھا کر کسی کی طرف لپکے ، اُس کا دِل دکھا ، یہ ظُلْم ہے * کسی کو گھُور کر دیکھا ، اسے تکلیف ہوئی ، یہ ظُلْم ہے * کسی کا قرضہ دبا لیا * گالی دِی * طعنہ دیا * مذاق اُڑایا * طنز کیا * نام بگاڑا * چوری کی * مال چھینا * لُوٹا * رشوت لی * سُود کھایا * جُوئے کے ذریعے مال بٹورا * ناپ تول میں ڈنڈی ماری * والدین کو ستایا * پڑوسی کو تکلیف دِی * رات کو شور شرابا کر کے دوسروں کی نیند خراب کی * راستے میں کوڑا پھینک کر * غلط پارکنگ کر کے تکلیف کا سبب بنے * الزام لگایا * بہتان باندھا * بلا اجازت کسی کی کوئی چیز استعمال کی ، یہ سب ظُلْم ہے اور ظُلْم چاہے چھوٹا ہو ، چاہے بڑا ہو ، ظُلْم ظُلْم ہی ہے ، اگر ہم سچّے حسینی بننا چاہتے ہیں ، اگر ہم واقعی یزیدیت سے بیزار ہیں تو ہمیں ہر قسم کا ظُلْم چھوڑ کر شریف انسان بننا ہو گا اور اگر خُدانخواستہ پہلے کسی پر ظُلْم کیا ہے تو اس سے توبہ بھی کرنی ہو گی اور اس شخص سے مُعَافِی بھی مانگنی ہو گی۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھئے گا ، شریف وہ نہیں ہے جو صِرْف شریفوں کے سامنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami