Share this link via
Personality Websites!
نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے ، اس پر حکمِ قرآنی نازِل ہوا؛
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ ( پارہ10 ، سورۃالتوبۃ : 84 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نمازِ جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا
* ایک بار ” اِبْنِ صُوریا “ جو کافِر تھا ، اس نے کہا : ہم جبریل کے دُشمن ہیں ، اگر تمہارے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس میکائیل وحی لے کر آتے ہوتے تو ہم کلمہ پڑھ لیتے ، اس بدبخت کی ایسی گستاخی والی گفتگو پر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے فرمایا : مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلَائِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَجِبْرِیْل و َ مِیْکَالَ فَاِنَّ اللہ عَدُوٌّ لِّلْکَافِرِیْن۔
حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے اس کافِر کو یہ جواب دیا ، اُدھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور یہی جملہ آیتِ قرآنی بَن کر نازِل ہوا ، اللہ پاک نے فرمایا :
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)
( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 98 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔
* اسی طرح اسلام میں پہلے شراب حلال تھی ، ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے دُعا کی : اَللّٰہُمَّ بَیِّنْ لَنَا فِی الْخَمْرِ یعنی اِلٰہی ! شراب کے مُعَامَلے میں ہماری راہنمائی فرما۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ
( پارہ5 ، سورۃالنساء : 43 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤجب تک سمجھنے نہ لگو وہ بات جو تم کہو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami