Share this link via
Personality Websites!
نے بارگاہِ رسالت میں کوئی رائے پیش کی ، اس پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی زبان مبارک سے کوئی جملہ نکلا ، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہو گئی ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے کوئی کام کیا ، اس کے درست ہونے پر قرآنِ کریم کی آیت نازِل ہو گئی۔یہ کُل 20 یا اس سے بھی زیادہ آیات ہیں جو حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی رائے کے مُوَافِق نازِل ہوئیں ، انہی کو ” مُوَافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ “ کہا جاتا ہے۔
مثلاً * ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم مقامِ ابراہیم کو مُصَلّٰی نہ بنا لیں ، اس پر آیتِ کریمہ نازِل ہوئی :
وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ ( پارہ1 ، سورۃالبقرۃ : 125 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : اور اے ( مسلمانو ! ) : تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔
* ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر ہم صَفَا اور مَرْوَہ کا طواف ( یعنی سَعِی کریں ، صَفَا و مَرْوَہ کے پھیرے لگایا ) کریں تو ( کتنا اچھا ہو گا... ! ) ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی :
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِۚ-فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَاؕ ( پارہ2 ، سورۃالبقرۃ : 158 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : بیشک صفااور مَرْوَہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے چکر لگائے۔
* عبد اللہ بِنْ اُبَیْ جو مُنَافِقوں کا سردار تھا ، یہ جب واصِلِ جہنّم ہوا ، اس وقت حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے عرض کیا : یارَسُول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس مُنَافِق کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami