Share this link via
Personality Websites!
اسلام کے سخت دُشْمن تھے ، ایک دِن سخت غصے میں ، ننگی تلوار لئے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَعَاذَ اللہ ! شہید کر دینے کے ارادے سے جا رہےتھے ، راستے میں معلوم ہوا کہ آپ کی بہن بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکی ہیں ، بہن کے گھر پہنچے ، اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی تھی ، دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر گئے ، بہن پر بھی تَشَدُّدْ کیا ، بہنوئی کو بھی خوب مارا ، مگر جب دیکھا کہ مار کھا کر بھی ان کے دِل سے اسلام کی محبت کم نہیں ہو رہی تو خیال کیا کہ آخر دیکھوں تو یہ کیسی طاقت ہے ، اسلام میں کیسی لذّت ہے جو اتنی مار کھانے سے بھی کم نہیں ہوتی ، بہن سے قرآنِ کریم مانگا ، بہن نے فرمایا : ناپاک لوگ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے ، غسل کرو یا وُضُو کرو پھر قرآنِ کریم ملے گا ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے وُضو کیا ، قرآنِ کریم ہاتھ میں لیا ، کھولا ، سورۂ طٰہٰ کی آیات سامنے تھیں ، آپ نے پڑھنا شروع کیا ، اس آیت پر پہنچے :
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ- ( پارہ16 ، سورۂ طٰہٰ : 14 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : بیشک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں تَو میری عبادت کر۔
بَس یہیں تک پڑھا تھا کہ قرآنِ کریم نے اپنا اَثَر دکھا دیا ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا دِل پگھل گیا ، دِل میں نورِ ایمان پیدا ہوا ، بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے ، کلمہ پڑھا اور ساتھ ہی مسلمانوں نے اس زور سے نعرۂ تکبیر لگایا کہ حرمِ کعبہ تک اس کی گونج جا پہنچی۔ یُوں حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ دائرۂ اسلام میں داخِل ہو گئے۔ ( [1] )
اے عاشقانِ رسول ! دیکھئے ! اسلام کے دوسرے خلیفہ ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا قرآنِ کریم کے ساتھ کیسا گہرا تعلق ہے ، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں بعض وہ ہیں
[1]...اِتِّحَافُ الْخِیَرَۃِ الْمِھَرَۃ ، کتاب : الفضائل ، باب : فضائل عمر ، جلد : 9 ، صفحہ : 221تا222 ، حدیث : 8865خلاصۃً۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami