Share this link via
Personality Websites!
پسِ صدیق اکبر مصطفےٰ کے سب صحابہ میں ہے بےشک سب سے اُونچا مرتبہ فاروقِ اعظم کا ( [1] )
* آخر مسجدِ نبوی شریف میں ، نمازِ فجر پڑھاتے ہوئے ، ایک کافِر نے خنجر سے آپ پر حملہ کیا ، جس سے آپ زخمی ہوئے اور مدینۂ پاک میں شہادت کی موت پائی۔ حضرت صُہَیب رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور روضۂ پاک میں حضور جانِ کائنات ، فخرِ موجودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلو مبارک میں دَفْن ہوئے۔ ( [2] )
حیاتی میں تو تھے ہی خدمتِ محبوبِ خالق میں مزار اب ہے قریبِ مصطفےٰ فاروقِ اعظم کا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو ! اسلام کےدوسرےخلیفہ ، اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی سیرتِ پاک کے بہت سارے پہلو ہیں ، ان میں سے ایک بہت اَہَم پہلو ہے : حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا قرآنِ کریم سے گہرا تعلق۔ الحمد للہ ! تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہی قرآنِ کریم سے گہری محبت کرتے تھے ، قرآنِ کریم سیکھتے تھے ، سمجھتے تھے ، قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے تھے ، اس پر عمل کیا کرتے تھے مگر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی سیرتِ پاک کو پڑھیں تو آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا قرآنِ کریم کے ساتھ جُدا قِسْم کا ہی تعلق نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کے قبولِ اسلام کا واقعہ ہی دیکھ لیجئے !
حضرت عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کے قبول اسلام کا واقعہ
مَشْہور واقعہ ہے : حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ، آپ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami