Share this link via
Personality Websites!
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نعلین شریف اور تکیہ مبارک اُٹھانے ، رکھنے کی خدمت حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کے سپرد تھی ، اسی لئے آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کو صَاحِبُ الْوِسَادَۃِ وَ النَّعْلَیْن کہا جاتا ہے یعنی حُضور جانِ کائنات ، فخرِ موجودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نعلین شریف اور تکیہ مبارک اٹھانے رکھنے والے۔ ( [1] )
ایسے بلند رُتبہ صحابی رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نصیحت فرما رہے ہیں : جب بھی نیکوں کا ذِکْر ہو تو جلدی سے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا ذِکْر بھی کیا کرو ! پھرغور فرمائیے ! حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے حضرت عمرِ فاروق رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ سے اپنی محبت کا اِظْہار کیسے زبردست انداز میں کیا ہے ، فرما رہے ہیں : اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کسی کُتّے سے محبت کرتے تھے تو میں بھی اُس سے محبت کروں گا یعنی ایسی حقیر چیز جس سے عموماً محبت نہیں کی جاتی ، اگر بالفرض حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اس سے محبت کرتے ہوں اور مجھے معلوم ہو جائے تو میں بھی اس چیز سے محبت کروں گا۔
سُبْحٰنَ اللہ ! اللہ پاک ہمیں بھی صحابۂ کرام سے ، اَہْلِ بیت اطہار سے ، خلفائے راشدین سے ، پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق سے ، دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق سے ، تیسرے خلفیہ حضرت عثمانِ غنی سے ، چوتھے خلیفہ حضرت علی رَضِی اللہ عَنْہُمْ ان سب سے کمال محبت کرنے ، ان کا کمال ادب کرنے ، ان کے ذِکْر سے زبان تَر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہر صحابئ نبی ، جنّتی جنّتی چار یارِنبی ، جنّتی جنّتی
ابو بکر و عمر ، جنّتی جنّتی عثمانِ غنی ، جنّتی جنّتی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami