Share this link via
Personality Websites!
پیاری پیاری سنّت مبارکہ ہے * آپ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ہمیشہ اپنے سر مبارک کے بال شریف پورے رکھے * کبھی نصف کان مبارک تک ، کبھی کان مبارک کی لو تک ، کبھی گیسو شریف بڑھ جاتے تو مبارک شانوں کو جھوم جھوم کر چومنے لگتے * حضرتِ سیّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فرماتے ہیں : نبئ اکرم ، رسول محتشم صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے بال مبارک آدھے مبارک کانوں تک تھے ( [1] ) * حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا فرماتی ہیں : میرے سرتاج ، صاحبِ معراج صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی مبارک زُلفیں کان کی لو سے ذرا نیچے ہوتیں اور مبارک کندھوں کو چوما کرتیں۔ ( [2] )
اے عاشقانِ رسول ! سر کے بیچ میں سے مانگ نکالنا سنّتِ مبارکہ ہے۔بہار شریعت میں ہے : بعض لوگ دائیں یا بائیں جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنّت کے خلاف ہے ، سنّت یہ ہے کہ بیچ میں مانگ نکالی جائے ، بعض لوگ مانگ نہیں نکالتے بلکہ بالوں کو سیدھے رکھتے ہیں یہ سنّت نہیں ہے ، یہ یہود و نصاری کا طریقہ ہے۔ ( [3] )
اللہ پاک ہم سب کو سُنتوں کا عامِل بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖنَ صَلَی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami