Share this link via
Personality Websites!
آپ کو قرآنِ کریم سے کیسی محبت تھی ، آپ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کیسی محبت کے ساتھ ، کس پیار کے ساتھ ، قرآنِ کریم کے معنی و مفہوم میں ڈُوب کر ، خوفِ خُدا کے ساتھ قرآنِ کریم کی تِلاوت کیا کرتے تھے ، ہم بھی الحمد للہ ! مسلمان ہیں۔ ہم ذرا اَپنے اندر بھی جھانک کر دیکھیں ، ہر کوئی اپنے بارے میں غور کرے کہ میرے دِل میں قرآنِ کریم کی کتنی محبت ہے؟ یہ ہمارا حق بنتا ہے ، ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ کتنے دِن ہو چکے ہیں قرآنِ کریم کھول کر دیکھے ہوئے ، یہ قرآن ، یہ اللہ پاک کا پاکیزہ کلام ، جو اللہ پاک نے ہماری ہدایت کے لئے نازِل فرمایا * یہ قرآن جو شِفَا ہے * یہ قرآن جو جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شِفَا ہے * جو باطنی بیماریوں کے لئے بھی شِفَا ہے * یہ قرآن جس میں ہمارے رَبّ نے ہمارے لئے زِندگی کے اُصُول بیان فرمائے ہیں ، ہم اس قرآنِ کریم کو ، اس پاکیزہ کلامِ اِلٰہی کو کتنا پڑھتے ہیں ، اسے سمجھنے کی کتنی کوشش کرتے ہیں۔
آہ ! یہ قرآن ہمارے رَبّ کا کلام ہے * اس میں ہمارے لئے ہدایت ہے * اس میں ہمارے لئے روشنی ہے * اس میں ہمارے لئے نور ہے * اس میں ہمارے مسائل کا حَل ہے * اس میں ہماری پریشانیوں کا حل ہے ، اس میں ہمارے مُعَاشِی مُعَاملات کا حل ہے * اس میں گھر جنّت کا گہوارہ بنانے کے اُصُول ہیں * اس میں زِندگی خوب صُورت بنانے کے طریقوں کا بیان ہے ، آہ ! افسوس ! اس پاکیزہ کلام کو پڑھنے کے لئے ہمارا دِل بےچین نہیں ہوتا ، اسے سمجھنے کے لئے ہم بےتاب نہیں ہوتے۔ کاش ! ہمیں بھی قرآنِ کریم کی محبت نصیب ہو جائے * کاش ! ہم بھی قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والے بَن جائیں * کاش ! ہم بھی قرآنِ کریم کو سمجھنے والے بَن جائیں * کاش ! فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا صدقہ نصیب ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami