Share this link via
Personality Websites!
حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے جب اپنے محبوب آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دِل جُوئی کا اہتمام کیا تو اللہ پاک نے فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی تَصْدِیْق میں یہ آیتِ کریمہ نازِل فرمائی اور ارشاد ہوا : ( [1] )
فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ( پارہ28 ، سورۃالتحریم : 4 )
ترجمہ کنزُ العِرفان : تو بیشک اللہ خود اُن کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے۔
حضرت عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اَکْرَم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : صَالِحُ الْمؤْمِنِیْنَ اَبُوْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ یعنی اس آیت میں نیک مؤمن سے مراد ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اعظم ( رَضِی اللہ عَنْہُمَا ) ہیں۔ ( [2] )
علّامہ عبد الرؤوف مناوی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالی شان کا معنی یہ ہے کہ اسلام کے پہلے خلیفہ ، حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اور اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ ، یہ دونوں حضرات فضیلت میں ، اَوْصاف میں تمام مسلمانوں سے اَفْضل و اعلیٰ ہیں اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بعد ان کا رُتبہ سب سے بڑا ہے۔ ( [3] )
عمر کافی نبی کو حَسْبُکَ اللہ سے یہ ثابت ہے ہے شاہد جن پہ قرآں حضرت فاروق اعظم ہیں
” فاروقِ اعظم “ کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے
پیارے اسلامی بھائیو ! پارہ : 26 ، سورۂ حُـجُـرات کی دوسری آیت میں مسلمانوں کو حکم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami