Share this link via
Personality Websites!
معلوم ہوا کہ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی رائے کے مُوَافِق قرآنِ کریم کی آیات اُترا کرتی تھیں ، پھر یہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اتنی بلند شان والے ہونے کے باوُجود نبی نہیں بلکہ صحابی تھے تو یہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اب قیامت تک دُنیا میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ، اگر آنا ممکن ہوتا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نبی بَن چکے ہوتے ، جب وہ شخصیت جن کی موافقت میں قرآن اُترتا تھا ، وہ بھی نبی نہ ہوئے تو کوئی اَیْرا غَیْرا کیسے نبی بَن سکتا ہے۔ لِہٰذا مُوافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کو ماننا خَتْمِ نبوت کا اِنْکار نہیں بلکہ الحمد للہ ! خَتْمِ نبوت کی زبردست دلیل ہے۔
تمہارے بعد پیدا ہو نبی کوئی نہیں ممکن نبوت ختم ہے تم پرکہ ختم الانبیاءتم ہو ( [1] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نیک مومن ہیں
سُلْطَانُ الْمُفَسِّرِیْن حضرت عبد اللہ بن عبَّاس رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک روز پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی مُعَامَلے میں فِکْر مند تھے ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! فِکْر کی کیا بات ہے ، اللہ پاک آپ کے ساتھ ہے ، فرشتے آپ کے ساتھ ہیں ، حضرت جبرائیل ، حضرت میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام آپ کے ساتھ ہیں ، حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ آپ کے ساتھ ہیں ، میں بھی حاضِر خِدْمت ہوں ، سارے مسلمان آپ کے ساتھ ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami