Share this link via
Personality Websites!
بناتا ہے ، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ تمام اَوْصاف جو نبیوں میں ہوتے ہیں ، وہ سارے اَوْصَاف حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ میں پائے جاتے ہیں مگر اللہ پاک نے انہیں نبی بنایا نہیں ہے ، کیوں نہیں بنایا...؟ اس لئے کہ اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُنیا میں تشریف لا چکے ہیں ، اب نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے ، اب قیامت تک کوئی بھی نیا نبی نہیں آئے گا۔ ( [1] )
اب دیکھئے ! وہ عظیم شخصیت جن کے اَوْصاف انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے اَوْصاف جیسے ہیں ، جن کا کردار پاکیزہ ہے ، جن کے اخلاق پاکیزہ ہیں ، جن سے شیطان ڈرتا ہے ، جن کی زبان پر فرشتے کلام کرتے ہیں ، جن کی زبان پر اللہ پاک نے حق رکھ دیا ہے ، جن کی رائے کے مُوَافِق قرآنی آیات اُتَرْتِی ہیں ، جب ایسی بلند شان والے صحابی ، اسلام کے دوسرے خلیفہ ، اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ بھی پیارے آقا ، سردارِ انبیا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غلامی اختیار کرتے ہیں ، جب یہ بھی پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آخری نبی مانتے ہیں ، جب یہ بلند رُتبہ صحابی رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کرتے تو اب قیامت تک کے لئے جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا ، اسے چاہئے کہ پہلے آئینے میں اپنا منہ دیکھے ، نبوت تو بہت ہی بلند درجہ ہے ، اب قیامت تک کوئی شخص حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کے درجے تک بھی نہیں پہنچ سکتا ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ صحابی ہیں ، اب کوئی بھی صحابی نہیں بَن سکتا ، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی مُوَافقت میں قرآنِ کریم اُترتا تھا ، اب قرآنِ کریم مکمل ہو چکا ، اب کسی کی موافقت میں قرآن نہیں اُترے گا ، لہٰذا قیامت تک نیا نبی آنا تو دُور کی بات ہے ، اب کوئی دُوسرا عمر بھی نہیں ہو سکتا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami