Share this link via
Personality Websites!
فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی ان موافقات کا اِنْکار کرتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ موافقاتِ عمر کو ماننے سے خَتْمِ نبوت کا اِنْکار لازِم آتا ہے ، مثلاً اگر ہم مانتے ہیں کہ ایک جملہ جو حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کی زبان سے نکلا تھا ، پھر وہی جملہ قرآنی آیت بَن کر نازِل ہوا تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ پر بھی مَعَاذَ اللہ ! وَحْی نازِل ہوتی تھی اور یہ خَتْمِ نبوت کا اِنْکار ہے ، لہٰذا مُوَافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کو ماننا درست نہیں۔
اس اعتراض کے جواب کے طَور پر دو مدنی پھول ذہن نشین کیجئے ! * پہلا مدنی پھول تو یہ یاد رکھنے کا ہے کہ ” دِیْن “ ہم تک عقل سے نہیں ، دِین روایت سے پہنچا ہے۔ یعنی جو کچھ قرآنِ کریم میں ہے ، جو کچھ پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ، اسے ماننے کا نام دین ہے ، اب پیارے آقا ، رسولِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو کچھ فرمایا ، یہ سب کچھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے سُنا ، دیکھا اورآگے بیان کیا ، پھر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے تابِعِیْن نے سُنا ، تابِعِین سے تَبَع تابِعِیْن نے سُنا ، پھر تَبَع تَابِعِیْن نے اپنے بعد والوں کو بتایا ، یُوں کرتے کرتے ہم تک دِین پہنچا ، اب یہ جو روایت ہوئی یعنی ایک شخص اپنے بعد والے کو دِیْن کی باتیں سکھاتا رہا ، بتاتا رہا ، اس کے متعلق اُصُول مقرر ہیں ، بَس جو بات ہم تک پہنچی اور اُن اُصولوں کے مُطَابق ہے ، اسے قبول ہی کیا جائے گا ، اگر ہماری عقل اُس بات کے مُوَافِق ہے تو اس پر شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر ہماری عقل میں وہ بات نہیں آرہی تو اس پر عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائے جائیں گے بلکہ دِیْن کی اس بات کو ، حدیثِ پاک کو ، صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اُن فرامین کو مانا جائے گا ، عقل کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا جب اَحادِیث میں موجود ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اس اُمَّت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami