Share this link via
Personality Websites!
کیسے مُحَدِّث؟ فرمایا : وہ جس کی زبان پر فرشتے بولتے ہیں۔ ( [1] )
ہمارے ہاں عُمُوماً جو لفظِ مُحَدِّث بولا جاتا ہے جیسے مَوْلانا سَردار احمد صاحب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو مُحَدِّثِ اعظم پاکستان کہتے ہیں ، اس سے مراد ہے : حدیث شریف کا بہت بڑا عالِم ، اور اس حدیثِ پاک میں جو لفظ ” مُحَدِّث “ آیا ہے ، اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی زبان پر فرشتے کلام کرتے ہیں اور یہ والے مُحَدِّث حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ ہیں۔
* ایک حدیثِ پاک میں ہے : اِنَ اللہ جَعَلَ الْحَقَّ عَلیٰ لِسَانِ عُمَرَ وَ قَلْبِہٖ بےشک اللہ پاک نے عمر کی زبان اور دِل پر حق رکھ دیا ہے۔ ( [2] ) * طَبَرانی شریف کی حدیثِ پاک میں ہے ، مکی مدنی آقا ، دو جہاں کے داتا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : عمر میرے ساتھ ہے ، میں عمر کے ساتھ ہوں ، میرے بعد عمر جہاں بھی ہو ، حق اس کے ساتھ ہو گا۔ ( [3] ) * ایک حدیثِ پاک میں ہے : انبیا کے سَرْوَر ، آقائے عمر صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : آسمان پر کوئی فرشتہ نہیں مگر وہ عمر کی عزّت کرتا ہے اور زمین پر کوئی شیطان نہیں مگر وہ عمر سے دُور بھاگتا ہے۔ ( [4] )
گلی سے ان کی شیطاں دُم دبا کر بھاگ جاتا ہے ہے ایسا رُعب ، ایسا دبدبہ فاروقِ اعظم کا ( [5] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
دِیْن ہم تک رِوایت سے پہنچا ہے
پیارے اسلامی بھائیو ! ہم نے ابھی مُوَافقاتِ عمر رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کے متعلق سُنا ، بعض نادان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami