Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف ( ترجمہ : میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی )
اسلام کے دوسرے خلیفہ ، اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فرماتے ہیں : بے شک دُعا زمین و آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے ، اس میں سے کوئی چیز اُوپر کی طرف نہیں جاتی ، جب تک تم اپنے نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود نہ پڑھ لو۔ ( [1] )
دُعا کے ساتھ نہ ہووے اگر درود شریف نہ ہووے حشر تلک بھی بر آورِ حاجات
قبولیت ہے دُعا کو درود کے باعِث یہ ہے درود کی ثابت کرامت و برکات ( [2] )
وضاحت : یعنی دُعا کے ساتھ دُرود نہ پڑھا جائے تو دُعا قیامت تک بھی قبول نہ ہو گی ، دُعا درودِ پاک کے صدقے ہی قبول کی جاتی ہے ، درود پاک کی یہ عزت و برکت روایات سے ثابت ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
صحابئ رسول ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فرماتے ہیں : جب بھی نیک لوگوں کا تَذْکِرہ ہو تو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کا ذِکْر کرنے میں جلدی کیا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami