Share this link via
Personality Websites!
نیت بندے کو جنَّت میں داخِل کروا دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے ! مثلاًنیت کیجئے ! * عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * بااَدب بیٹھوں گا * اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا * جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت ابُو قِلابَہ رَضِیَ اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک مرتبہ ملکِ شام میں تھا ، ایک دِن میں نے ایک آواز سنی ، کوئی پُکار رہا تھا : ہائے افسوس ! میرے لئے جہنّم ہے ، ہائے افسوس ! میرے لئے جہنّم ہے ، مجھے تعجب ہوا کہ آخر یہ کون ہے ؟ جو اتنے یقین کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ میرے لئے جہنّم ہے۔ فرماتے ہیں : جس طرف سے آواز آرہی تھی ، میں اُٹھ کر اس طرف گیا ، وہاں میں نے ایک حیران کر دینے والا منظر دیکھا؛ ایک شخص ہے ، جس کے دونوں ہاتھ بھی کٹے ہوئے ہیں ، دونوں پاؤں بھی کٹے ہوئے ہیں ، دونوں آنکھوں سے اندھا بھی ہےاور منہ کے بل زمین پر اَوندھا پڑا ہوا بار بار یہی کہہ رہا ہے : ہائے افسوس ! میرے لئے جہنّم ہے ، ہائے افسوس ! میرے لئے جہنّم ہے۔
میں نے اس سے پوچھا : اے شخص ! تو ایسا کیوں اور کس وجہ سے کہہ رہا ہے ؟ وہ پُراسرار شخص بولا : اے پوچھنے والے ! میرا حال نہ پوچھ... ! ! افسوس ! میں ان بد نصیبوں میں سے ہوں جو مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کو شہید کرنے کے لئے آپ کے مکانِ عالی شان میں داخل ہوئے تھے ، میں جب تلوار لے کر حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عنہ کے قریب پہنچا تو آپ کی زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ عنہا مجھے زور زور سے ڈانٹنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami