Share this link via
Personality Websites!
ذوالحجۃ الحرام کی ایک اہم عبادت
پیارے اسلامی بھائیو ! ذو الحجۃ الحرام میں کی جانے والی ایک اَہَم ترین عبادت قربانی بھی ہے * قربانی ہر اس بالغ مقیم مسلمان مرد وعورت پر واجب ہے جو مالکِ نصاب ہے (یعنی اس کے پاس ساڑھے باون (52.5)تولے چاندی یا اتنی مالیت کی رقم یا حاجتِ اصلیہ سے زائد اتنی مالیت کا سامان ہے ) ([1]) *قربانی واجب ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ پورا سال مالکِ نصاب رہے بلکہ اگر ایام ِ قربانی (یعنی 10 ذوالحجہ کی صبحِ صادق سے 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک کسی وقت قربانی واجب ہونے کی شرائط پائی گئیں تو قربانی واجب ہے) *اگر کسی پر اتنا قرض ہے کہ قرض کی رقم نکالنے کے بعد وہ مالکِ نصاب نہیں رہتا تو اس پر قربانی واجب نہیں ۔([2])
حضرت زید بن ارقم رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک بار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بارگاہِ رسالت میں عَرْض کیا: یا رسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ پیارے نبی ، رسولِ ہاشمی ، مکی مدنی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : سُنَّۃُ اَبِیْکُم اِبْرَاہِیْم یعنی تمہارے والِد ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی سُنّت۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے پوچھا : یا رسولَ اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟ فرمایا : بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ یعنی قربانی کے ہر بال کے بدلے تمہارے لئے ایک نیکی ہے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami